قومی اسمبلی کا اجلاس پھر کورم کی نذر
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر کورم کی نذر ہوگیا۔ ایوان نے سانحہ سیالکوٹ پربحث کی تحریک منظورکی، اپوزیشن نے ایوان میں وزرا کی عدم موجودگی پر بحث کو بے مقصد قراردے کرکورم کی نشاندہی کردی، گنتی پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکرقاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا ،خواتین کی مخصوص نشستوں پرن لیگ کی شکیلہ خالد چوہدری نے حلف اٹھایا۔
ایوان نے ایجنڈا معطل کرکےمشیر پارلیمانی امورکی سانحہ سیالکوٹ پر بحث کی قرارداد منظور کرلی جس کے بعد بابر اعوان نے خطاب میں کہا کہ سری لنکن شہری کے قتل سے پاکستان کا چہرہ مسخ ہوا،ملزمان کو گرفتار کر کے چالان پیش کر دیا گیا ہے۔
بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ عدالت جلد اس کیس کا فیصلہ کریگی ،اے پی ایس،نور مقدم کیس،زینب کیس اور موٹر وے ریپ کیسز پر بروقت فیصلے نہ ہونے سے قانون میں کمی کوتاہی سامنے آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ ،پارلیمان اور ایگزیکٹو کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ قوانین میں کوتاہیوں کو ختم کیا جاسکے۔
اجلاس میں مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ نے دین اسلام اور پاکستان کا تشخص مسخ کیا ہے،دین کی کم فہیمی پر مبنی رویوں کا خاتمہ ہونا چاہیے،وزیرداخلہ کو اس حوالے سے پالیسی بیان ایوان میں دینا چاہیے تھا ،وزیر داخلہ ،وزیر قانون اور وزیر اطلاعات کو تحریک پر بحث کے دوران ایوان میں موجود ہونا چاہیے مگر یہ تینوں اہم وزرا موجود نہیں اس لئے اس بحث کو پیر تک ملتوی کیا جائے۔
مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر درشن نے احتجاجا کورم کی نشاندہی کردی، کورم پورا نہ ہونے پرڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دی۔
ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کے کراچی کے ارکان نے اپنی ہی حکومت کیخلاف احتجاج کیلئے بینرز لے آئے جن پر لکھا تھا کہ لیاری کو جینے دو،لیاری کو گیس اور بجلی دو ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔