کوئٹہ : ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری،مریض رل گئے

کوئٹہ کی سرکاری ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے والے ینگ ڈاکٹرز...
شائع 29 دسمبر 2021 11:37pm

کوئٹہ کی سرکاری ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے والے ینگ ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کے باجود او پی ڈیز کھل نہیں سکی اور ڈاکٹرز ہڑتال جاری رکھنے پر بضد ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرامیڈکیس فیڈریشن کے نمائندوں نے اپنے خلاف تھانہ سول لائنز میں درج مقدمہ واپس لینے کے باوجود ہڑتال کا سلسلہ 33 ویں روز بھی جاری رہا۔

ستائیس نومبر کو دھرنا دینے اور کار سرکار میں مداخلت کرنے پر 16 ڈاکٹرز سمیت 19 افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

صوبائی حکومت نے گزشتہ روز ایف آئی آر واپس لیکر گرفتار شدگان کو رہا کردیا تھا۔

تاہم ہڑتالی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ساتھیوں کیخلاف ایف آئی آر واپس لینا نہیں بلکہ ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کرنے اور سرکای ہسپتالوں کی مبینہ نج کاری ختم کرنے کیلئے تھا۔

ڈاکٹرز کا مزیدموقف تھا کہ حکومت نے ایف آئی آر واپس لے کر شکست قبول کرلی دوبارہ ریڈوزن جائینگے تھانے میں ٹارچر کیا گیا جیل میں ڈاکٹرز کو جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رکھ کر ناروا سلوک کیا گیا۔

ڈاکٹرز کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز ایک ماہ تین دن سے بند ہیں اور غریب مریض نجی ہسپتالوں کا مہنگا علاج کرانے پر مبجور ہیں ۔