'قرض حاصل کرنے کیلئے ملک کی آزادی کو داؤ پر لگانا عقلمندی نہیں'
سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کہتے ہیں قرض حاصل کرنے کیلئے ملک کی آزادی کو داؤ پر لگانا عقلمندی نہیں۔
رحمان ملک نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پاکستانی ہیں وہ کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ نواز شریف فروری سے پہلے نہیں آئیں گے
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے حالات بدترین ہیں۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہے،ڈالر مزید بڑھے گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں منی بل کی بازگشت سنائی دی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے ملک کی مالی مشکلات کے پیچھے کون سے عوامل ہیں جبکہ اپوزیشن نے کہا کہ ہم منی بجٹ کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں نکتہ اعتراض پرسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر منی بل پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی، بیروزگاری نے عوام کا برا حال کردیا ہے، منی بل عوام کے دکھوں میں مزید اضافہ کرے گا، عوام کا پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی منی بجٹ پیش نہیں ہوا۔
اجلاس میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ16 دسمبر 1971 میں ایک سرنڈر ہوا تھا جس سے ملک دو لخت ہوا لیکن اس کے بعدد بھی قائم رہا، اب ہم منی بجٹ کے ذریعہ اپنی معاشی خودمختاری سرنڈر کر رہے ہیں، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی لوکل برانچ بن چکا ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔