بے روزگاری،رواں سال بھی 240 افراد نے خودکشی میں کی
رواں سال بھی بے روزگاری اور مہنگائی نے لوگوں کوخودکشی کرنے پر مجبور کیا۔ سال کی شروعات سے لے کر سال کے اختتام تک 240 لوگوں خود کی زندگی کا خاتمہ کیا۔
سال 2021 میں بھی دو سو چالیس لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
کسی نے بے روزگاری سے آکر خودکشی کی تو کسی کی زندگی کے خاتمے کا سبب مہنگائی بنی۔
اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف کرمنالوجی جامعہ کراچی نائمہ سعید نے کہااس سال خودکشی کے واقعات کے رجحان میں اضافہ ہواہے جس کی سب سے بڑی وجہ بےروزگاری ہے۔
شہر کراچی کے ایک نجی شاپنگ مال کی بالائی منزل سے 29 سالہ شخص نے چھلانگ لگا کر خودکشی جس کی وجہ بھی بے روزگاری سامنے آئی۔
اس سے قبل 25 نومبر کو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان اور سابق میڈیا ورکر فہیم مغل نے گھر میں خود کو پھندا لگا کر اپنی جان لے لی تھی۔
اس خودکشی کے پیچھے بھی بے روزگاری اور معاشی معاملات کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔
بے روزگاری اور مہنگائی صرف عام شہریوں کے ہی خودکشی کا سبب نہیں بنی بلکہ کئی صحافیوں نے بھی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خود کی زندگی کا اختتام کیا ۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔