'نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو صحیح نہیں مانتا لیکن ۔ ۔ ۔'
پی پی رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو صحیح نہیں مانتا، لیکن عدالتوں نے ن لیگ کو بہت سپورٹ کیا ہے۔
اعتزاز احسن آج نیوز کے پروگرام فیصلہ آپکا میں گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی طریقہ نہیں ہے کہ شہبازشریف نوازشریف کو لاسکے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ کہہ دیں گے کہ بڑا بھائی تھا میں نے اسکی گواہی دے دی، تاہم اب کوئی قانون نہیں کہ واپس لاسکوں اسلئے معاف کیجئے درگزر کیجئے۔
بات چیت میں اعتزاز احسن نے تسلیم کیا کہ وہ نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو صحیح نہیں مانتے۔
ملک میں ایک بار پھر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ نواز شریف برطانیہ سے واپس آنے والے ہیں اور وہ دوبارہ واپس آخر مسند اقتدار پر براجمان ہونگے جس کے بعد اب اعتزاز احسن کی جانب سے یہ بیان دیا گیا ہے۔
پاناما کیس، نواز شریف نااہل قرار
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 21 جولائی کو 3 رکنی خصوصی بینچ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 6 ہفتوں میں ریفرنس دائر کیا جائے۔
فیصلے میں نیب کو دو ہفتوں میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد شامل تھے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔