بلوچستان اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس مسترد

جمعیت علما اسلام ف نے بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس کو مسترد...
شائع 03 جنوری 2022 11:09pm

جمعیت علما اسلام ف نے بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے مفادات کے خلاف قراردیتے ہوئے حکومت کے خلاف بھر پور تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

جے یو آئی کی صوبائی مجلس عاملہ کے بعد صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے نائب امیر مولوی سرور موسیٰ خیل اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تین روز تک مجلس عاملہ کا اجلاس جاری رہا۔

ان کاکہنا تھا کہ اجلاس میں ریکوڈک کے حساس مسئلے کو زیر بحث لایا گیا، جے یو آئی کا روزاول سے مطالبہ رہا کہ بلوچستان کو ترقیاتی فنڈ رقبے کی بنیاد پر دیا جائے، بلوچستان کو چھ سو ارب کا فنڈ ملنا بھی جے یو آئی کی کاوشوں کا نتجہ یے ، جے یو آئی نے ماضی میں بھی ریکوڈک کے مائنگ لائسنسس کیسنل کیا تھا ریکوڈک پر بلاآخر جے یو آئی کی مخلوط حکومت ریکوڈک پر سمجھوتہ نہ کرنے پر ختم کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی نے ووٹ عوام اورصوبے کے مفادات کے تحفظ کیلئے لیا یہ کیا تھا، دو ہزار اٹھارہ اور تیرہ کے الیکشن میں جے یو آئی کے ووٹ اسلئے چرائے گئے کہ ہم نے ریکوڈک پرسمجھوتہ نہیں کیا۔ دو ہزار اٹھارہ میں ووٹ چرائے گئے۔ بلوچستان میں تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب بڑی تباہی آنی ہو قدوس بزنجو کی حکومت جے یو آئی کی کوششوں سے ختم ہوئی تھی، لیکن افسوس کہ ریکوڈک پر سمجھوتہ کیا گیا صوبے میں وزارت اعلی کی تبدیلی جام کمال کے غیر جموری رویے کی وجہ سے آئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور کے حالات پرمکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اسمبلی کے اندر ریکوڈک کے معاملے پر جے یو آئی نے بھر پور آواز اٹھائی۔ ریکوڈک کے معاملے پر اسمبلی کا ان کیمرہ سیشن محض ڈرانہ تھا جے یو آئی نے سازشوں سے بالا آخر ان کمیرہ سیشن میں شرکت کی تھی جے یو آئی ان کیمرہ سیشن کو مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روز اول سے صوبائی اور مرکزی حکومت کو سیلکٹیڈ کہتے ہیں، حکمرانوں نے تمام اداروں اور اثاثوں کو گروہ رکھ دیا ہے، پاکستان کے قرضے اتارنے کے بدلے ریکوڈک دینے کا وزیر اعظم کا بیان لحمہ فکریہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایشن بنک کے منصوبوں کو سی پیک کا نام دیکر یہاں کے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا کرکے تحریک چلائی جائے گی، ملکی قرضے اتارنے کیلئے حکمرانوں کے عزائم ریکوڈک اور گوادر کو فروخت کرنے کے ہیں، جے یو آئی صرف لفاظی کی جنگ نہیں بلکہ عملی طور پر حکومت کے خلاف تحریک چلائی گی۔