Aaj.tv Logo

کراچی کے ریڈزون میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔

مارچ کرنے والوں نے پولیس کی رکاوٹوں سے گزر کر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا جبکہ احتجاج کے باعث صدر اور اس کے اطراف میں ٹریفک جام ہوگئی ۔

دسمبر میں سندھ اسمبلی سے منظور کیے گئے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کے خلاف کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان ایک ریلی نکالی۔

منظور کردہ ایکٹ کو ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے "کالا قانون" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ یہ بلدیاتی نمائندوں سے اختیارات لے کر صوبائی حکومت کے حوالے کرتا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے مارچ کے شرکاء شارع فیصل سے سفر کرتے ہوئے ہوٹل میٹرو پول پہنچے جہاں انہوں نے فوارہ چوک اور کراچی پریس کلب جانے کے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف رخ کیا۔

جب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ دیں اور نعرے بازی کی اس موقع پر سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں وہ احتجاج کررہے ہیں جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔

ٹریفک جام کی صورتحال

حکام نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی ہے جبکہ ریلی کے باعث ریڈ زون اور اطراف میں ٹریفک میں خلل کے باعث کئی سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔

پولیس نے پی آئی ڈی سی اور کراچی کلب کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے ہیں تاہم آئی آئی چندریگر روڈ اور شارع فیصل کا ریڈ زون جانے والا ٹریک ٹریفک جام کا سامنا رہا۔

وزیراعلیٰ کا طبی معائنہ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی) میں طبی معائنہ ہوا جبکہ طبیعت ناساز ہونے پر وہ بغیر پروٹوکول کے ہسپتال پہنچے۔

سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے پریس کانفرنس کی اور بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر ایم کیو ایم پی اور جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی تقریباً ایک ماہ سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے رہی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا ہے کہ دھرنوں سے کراچی میں نظام زندگی درہم برہم ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بلدیاتی قانون کو بحال نہیں کرے گی جو مشرف دور میں نافذ کیا گیا تھا۔