Aaj.tv Logo

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرسماعت کی۔

اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے گزشتہ روزسماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کرسنایا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد بار کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں 3 رکنی بنچو نے ایک آرڈر کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کو سننا چاہ رہے ہیں۔

جس کے بعد کمرہ عدالت میں عمران خان کے آڈیو اور ویڈیو کلپس چلائے گئے، جس میں عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عدالت میں کسی پرالزام لگانے کیلئے نہیں بیٹھے، سپریم کورٹ آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے ہے، اٹارنی جنرل آپ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت کے احکامات پرعمل نہیں کیا گیا، آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ لوگ زخمی ہوئے، اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایکشن لیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم آئین کے محافظ اوربنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والے ہیں، آئین کےآرٹیکل 16 اور17 کے تحت حقوق حاصل ہیں لیکن وہ لامحدود نہیں ہیں ، گزشتہ روزعدالت نے جو آڈرجاری کیا تھا وہ بیلنس میں تھا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کی یقین دہانی پرپی ٹی آئی کواجازت دی گئی ،عدالتی حکم کے بعد عمران خان نے کارکنوں کو پیغام جاری کیا، عمران خان نے کہا سپریم کورٹ نے اجازت دے دی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے عمران خان کو پیغام درست نہ پہنچا ہو۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی تلقین کی، اگرعدالت اجازت دے توعمران خان کی ویڈیو پیش کرنا چاہتا ہوں۔

عمران خان کی کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کے پیغام کی کی ویڈیوعدالت میں چلادی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس بیان کے بعد کیا ہوا، یہ بتائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ فائربریگیڈ اوربکتر بند گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ،31 پولیس اہلکار پتھراؤ سے زخمی ہوئے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کل سڑک پر کارکن تھے لیڈر نہیں، آگ آنسو گیس سے بچنے کیلئے لگائی تھی، کارکنوں کو قیادت ہی روک سکتی ہے جوموجود نہیں تھی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کو بغیر قیادت کے نکلنے کی کال دی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی کارروائی مفروضوں کی بنیاد پرنہیں ہوسکتی، عدالت نے گزشتہ روزکے فیصلے میں فریقین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی، کل عدالت نےشہریوں کے تحفظ کی کوشش احتجاج سے پہلے کی، عمومی طورپرعدالتی کارروائی واقعہ ہونے کے بعد ہوتی ہے، عدالت نے خود ثالت بننے کی ذمہ داری لی، پی ٹی آئی کو بھی حکومت پر کئی تحفظات ہوں گے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی۔

چیف جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا کہ جو کچھ کل ہوا ہے وہ آج ختم ہوچکا ہے، عدالت انظامیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرتی، عوام کے تحفظ کیلئے عدالت ہروقت دستیاب ہے، عدالت نے عوام کے مفاد کیلئے چھاپے مارنے سے روکا تھا، عدالت چھاپے مارنے کیخلاف اپنا حکم برقرار رکھے گی۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی درخواست نمٹا دی۔