Aaj News

برطانیہ میں نئے قانون کے تحت پانچ لاکھ پاکستانیوں کی برطانوی شہریت خطرے میں

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی شہریت رکھنے والے ان تارکین وطن کے پاس کسی اور ملک کی شہریت ہوگی تو ان کی برطانوی شہریت ختم کی جاسکتی ہے
اپ ڈیٹ 28 جون 2022 10:09pm
<p>سال 2006 سے برطانیہ کے پاس دوہری شہریت رکھنے والوں کی برطانوی شہریت ختم کرنے کا اختیار ہے۔ تصویر: ہائی کمیشن فار پاکستان، لندن (فائل)</p>

سال 2006 سے برطانیہ کے پاس دوہری شہریت رکھنے والوں کی برطانوی شہریت ختم کرنے کا اختیار ہے۔ تصویر: ہائی کمیشن فار پاکستان، لندن (فائل)

برطانیہ میں ایک نئے قانون کے تحت برطانوی شہریت رکھنے والے تقریباً پانچ لاکھ پاکستانیوں سے ان کا برطانوی پاسپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔

نیشنل اینڈ بارڈرز ایکٹ 2022 رواں برس 28 جون سے عمل میں آرہا ہے۔

اس کے بعد اگر مذکورہ افراد کی شہریت ختم کی جائے گی تو اس صورت میں برطانوی حکومت انہیں مطلع کرنے کی قائل نہیں ہوگی۔

یہ نیا حصہ بل کی شق نو میں متعارف کروایا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی شہریت رکھنے والے ان تارکین وطن کے پاس کسی اور ملک کی شہریت ہوگی تو ان کی برطانوی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔

جن کے پاس دوہری شہریت ہوگی یا جو کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے اہل ہوں گے، مثال کے طور پر ان ممالک کی شہریت جہاں سے ان کے والدین کا تعلق ہو، ایسے افراد کی برطانوی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔

اس نئے قانون سے لاکھوں پاکستانی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ تمام افراد جو 1951 کے بعد پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں ان کے پاس پاکستانی شہریت ہے، اور ان پاکستانیوں کے پاس اگر برطانوی شہریت بھی ہے تو اس صورت میں ان کی موخر الذکر شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔

سال 2006 سے برطانیہ کے پاس دوہری شہریت رکھنے والوں کی برطانوی شہریت ختم کرنے کا اختیار ہے، برطانوی حکومت اس صورت میں اختیار استعمال کرتی ہے اگر ایسا کرنا عوام یا ملک کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔

اس اختیار کے تحت ان افراد کی شہریت ختم کی گئی ہے جن کا دہشتگردی میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو اور جو جنگی مجرم یا جاسوس ہوں۔

واضح رہے کہ 2019 میں داعش کی سابق حامی، شمیمہ بیگم، کی برطانوی شہریت ختم کی گئی تھی، وہ لندن میں پیدا ہوئی تھیں۔

جن افراد کی شہریت ختم کردی جاتی ہے وہ برطانیہ میں رہنے کے لیے اہل نہیں رہتے۔

برٹش نیشنیلٹی ایکٹ 1981 حکومت کو برطانوی شہریت ختم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

برطانیہ میں شہریت کا قانون چھ مختلف طرح کی شہریت دہتی ہے:

  • برطانوی شہریت
  • سمندر پار علاقوں کے برطانوی شہری
  • بیرون ملک مقیم برطانوی شہری
  • برٹش سبجیکٹ سٹیٹس: یہ ایسے فرد کے لیے ہوتا ہے جس کو حکومت برطانوی شہری مانتی ہو۔ تاہم ایسے شخص کو برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • برطانوی شہری (بیرون ملک)
  • برطانوی تحفظ یافتہ شخص

برطانیہ میں شہریت کے قانون میں تبدیلیاں

1981: برٹش نیشنیلٹی ایکٹ جو کہ یکم جنوری 1983 سے عمل میں لایا گیا تھا۔

2003: نیشنیلٹی، امیگریشن اینڈ اسائلم ایکٹ 2002 جو کہ یکم اپریل 2003 سے نافذالعمل ہوا تھا۔ اس قانون کے تحت پہلی بار ان لوگوں کی شہریت ختم ہونا ممکن ہوا تھا جنہیں برطانیہ میں پیدا ہونے پر شہریت ملی ہو۔

پاکستان

overseas Pakistanis

United Kingdom

British Passport

British citizenship

Comments are closed on this story.