Aaj News

بدھ, مئ 29, 2024  
20 Dhul-Qadah 1445  

موسمیاتی تبدیلی پاکستان تک محدود نہیں رہے گی، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

موسمیاتی تبدیلی سے جو تباہی پاکستان میں ہوئی وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی
اپ ڈیٹ 08 نومبر 2022 10:44am
فوٹو۔۔۔۔ اے پی پی
فوٹو۔۔۔۔ اے پی پی

اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اورسیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے، پاکستان کو سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ دیں ۔

پاکستان پویلین میں یو این کلائمیٹ چینج کانفرنس کوپ 27 مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے سیلاب کے بعد پاکستان کا دورہ کیا، سیلاب سے پاکستان میں فصلوں، لوگوں کے روزگار اور نظام زندگی کو شدید نقصان پہنچا اور لوگوں کا سب کچھ تباہ ہو گیا، میں نے لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے دیکھا۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے حوصلے، ہمت اور فراخدلی لائق خراج تحسین ہے، پاکستان کے عوام کی فراخدلی کا مجھے پہلے ہی علم ہے، پاکستانی عوام کی طرف سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی ناقابل فراموش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے بہت نقصان ہوا ہے، پاکستان عالمی برادری کی بھرپور مدد کا مستحق ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کو مدد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی اس صورتحال میں بحالی اور تعمیرنو کے عمل کیلئے بڑے پیمانے پر بھرپور امداد کرے، اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، تباہی اور نقصان کے ازالہ کے حوالہ سے کوپ۔27 کو واضح روڈ میپ بنانا چاہیئے، اس سے پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے متاثرہ پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ کی بھی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو قرضوں کی واپسی کے حوالہ سے بحالی اور تعمیرنو کی شکل میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارو ں کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ دیں، پاکستان سمیت قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثرہ ممالک کو رعایتی فنانسنگ ہونی چاہیئے، امید ہے کہ جی۔20 ممالک اس حوالہ سے اقدامات کریں گے۔

انتونیوگوتریس نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کی طرف سے بھرپور امداد کا مستحق ہے،پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ موجودہ حالات میں مکمل اظہار یکجہتی کیا جانا چاہیئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے پاکستان پویلین آمد پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کا مشکور ہوں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی بدترین تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ، آپ کے دورے اور ہمدردی کے جذبات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، یہ ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ عالمی برادری کے طور پر ہم ایک نئے گرین ڈیل کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں سے واپس جانا ناممکن ہوگا، آپ جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے کچھ ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے نقصانات اور تباہی کے ازالے کے لئے اس طرح کی کانفرنسیں واحد امید ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لاکھوں افراد کو موسم سرما پناہ اور معاش کے بغیر بسر کرنا ہوگا حالانکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے، خواتین اور بچے اب بھی اپنی بنیادی ضروریات کے تحفظ کے لئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ دیہات بہتر مستقبل کے تحفظ کے منتظر ہیں اور ایسی بحالی کے لئے وسائل کی ضرورت ہے جن کی ہم ضمانت دینے سے قاصر ہیں، ملک کے جنوبی علاقوں میں کھڑے پانی کی وجہ سے بڑی بڑی جھیلوں کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں پر لاکھوں افراد کو فصلوں سے خوراک حاصل ہوتی رہی ہے اور مویشی لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنتے رہے ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے اب بھی سینکڑوں پل ٹوٹے ہوئے ہیں، 8000 کلو میٹر سے زائد سڑکیں بہہ گئی ہیں، سیلابی پانی نہ نکلنے کی وجہ سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے صحت کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، ہم نے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں، اقوام متحدہ کے اداروں، عالمی ادارہ صحت اور دوسرے ترقیاتی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس بڑے چیلنج سے نمٹنے میں ہماری مدد کی ہے لیکن موسمیاتی تباہی نے ہمارے سماجی و اقتصادی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ سیلاب کے باعث ہمارا 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بحالی کا سفر بڑھتے ہوئے قرضے، توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، موافقت فنڈ تک حقیقی رسائی نہ ہونے سے متاثر ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام بی آئی ایس پی نے 2.8 ملین غریب خاندانوں میں 70 ارب روپے (316 ملین امریکی ڈالر) کی رقم فوری طور پر تقسیم کی، ہم نے قومی امدادی کوششوں کے لئے تمام دستیاب وسائل استعمال کئے ہیں اور بجٹ کی تمام ترجیحات کو متعین کیا ہے جن میں ترقیاتی فنڈز بھی شامل ہیں ، ہم آپ اور آپ کی ٹیم کی کاوشوں اور سیلاب متاثرین کےلئے اپیلوں کو سراہتے ہیں لیکن لاکھوں افراد کو رہائش اور خوراک کی فراہمی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی بحران اور عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے متاثرہ ملک ہونے کے ناطے ہمارا مقصد ہے کہ کلائمیٹ فنانس کے اہداف حاصل کئے جائیں۔

وزیراعظم کا مزیدکہنا تھا کہ ہم موسمیاتی ایجنڈے کے حوالے سے نقصان کے ازالے کے خواہاں ہیں اور پرامید ہیں کہ تمام ممالک کوپ 27 کے اجلاسوں میں اسی جذبے کے ساتھ شریک ہوں گے کہ سب کے لئے موسمیاتی انصاف کی ضرورت ہے،اس صورتحال کو مکمل تباہی کی طرف نہیں لے جانا چاہیئےاور ہمیں ان حالات میں ایک عزم کے طور پر منصوبہ بندی کرنی چاہیئے۔

شہباز شریف نےکہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جو تباہی پاکستان میں ہوئی وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی، سیلاب سے ہمارے سماجی و اقتصادی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے ، دنیا کی طرف سے تباہی اور نقصانات کا ازالہ واحد امید ہے ۔

United Nations

antonio guterres

PM Shehbaz Sharif

COP 27

un climate change conference 2022