Aaj News

عمران خان کی سیاست پرویزالہٰی کے حصار میں

حقیقی آزادی کی تحریک نے ایوان وزیراعلٰی میں کیسے دم توڑا؟
شائع 05 دسمبر 2022 03:42pm
<p>تصویر بزریعہ اے ایف پی</p>

تصویر بزریعہ اے ایف پی

کہانی کا آغاز تب شروع ہوا جب راولپنڈی کا گیٹ نمبر 4 لاہور کے ظہور الہٰی روڈ منتقل ہوا۔

سیاست کی یہ کہانی اب دلچسپ موڑ اختیار کرگئی ہے، پنجاب میں عمران خان کے اتحادی اور میزبان مسلم لیگ (ق) کے قائدین نے یہ تو تسلیم کرلیا ہے کہ وہ عمران خان کی حریف اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ سے رابطے میں تھے، ان سے ڈکٹیشن لے رہے تھے، ان سے مشاورت بھی جاری رکھے ہوئے تھے، مگر باپ اور بیٹے پرویز الہٰی اور مونس الہٰی نے عمران خان کو اس گتھی کو سلجھانے میں لگا دیا ہے کہ باجوہ نے عمران کا ساتھ دینے کا کہا تھا یا نہیں، اور جو جنرل باجوہ عمران کےلئے بے وفا تھے وہ پنجاب میں عمران کے میزبان کےلئے آئیڈیل کیسے ہیں۔

اس کہانی کا سرا کہاں سے ملے گا، اور عمران خان کا حقیقی آزادی مارچ پریڈ گراونڈ سے ہوتا ہوا پنجاب کے ایوان وزیراعلیٰ میں کیسے دم توڑ گیا۔ اس کی کھوج لگانے کےلئے ہمیں فروری 2022 میں بند کمروں میں ہونے والے اجلاسوں میں جھانکنا ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حکومت گرانے کےلئے پراسرار سرگرمیوں کا آغاز رواں سال فروری کے پہلے ہفتے لاہور کے ظہور الہٰی روڈ سے ہوا اور مارچ کے وسط تک جاری رہا۔ یہ پراسرار سرگرمیاں آہستہ آہستہ ذرائع کے ساتھ پردے سے باہر آنا شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کےلئے مشاورت ہورہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک بھر کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جن کی نمائندگی قومی اسمبلی میں تھی وہ اس ترتیب اور اہتمام سے لاہور کے ظہورالہٰی روڈ پر چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر حاضری دے رہی تھیں جیسے انہیں کہیں سے آشیر باد دے کر بھیجا گیا ہوں۔ ملاقاتیوں میں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف بھی تھے جنہوں نے 14 سال بعد ظہورالہٰی روڈ کی اس رہائش گاہ پر قدم رکھا، باقی تمام کے علاوہ قومی اسمبلی میں ایک نشست رکھنے والی جماعت اسلامی کے اصول پسند امیر سراج الحق بھی حاضری دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ دلچسپت صورتحال اس وقت پیش آئی جب اس اتحادی جماعت کے وزیراعظم عمران خان بھی خبر لینے پہنچ گئے کہ یہ ہوکیا رہا ہے؟

اس موقع پر ظہور الہٰی روڈ پر طویل ڈیوٹی دینے والے صحافی وقت گزاری کےلئے جب سیاسی تبصرے شروع کرتے تو کبھی کبھی انجانے میں کام کی بات زبان سے نکل جاتی۔ ایک صحافی نے فقرہ کس دیا کہ کیا راولپنڈی کا گیٹ نمبر 4 اب لاہور کے ظہور الہٰی روڈ منتقل ہوگیا ہے۔ سب نے یہ بات قہقہے میں اڑا دی۔ اس مقام پر تیار ہونے والی حکمت عمل نے دس اپریل کو حقیقت کا روپ دھار لیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے الگ کرانے کے ماسٹر مائنڈ اس رہائش گاہ کے مکین آج 8 ماہ بعد لاہور میں عمران خان کے ہی میزبان ہیں۔

دوہزاراٹھارہ کے انتخابات کے بعد جب پنجاب میں عمران خان نے مسلم لیگ )ق( کے چوہدری برادران سے اتحاد کیا تو کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ چوہدری برادران کے ساتھ ان کا یہ سیاسی سفر پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہوگا۔

اس پل صراط سے عمران خان کا ایک پاؤں تو اس وقت پھسلا جب مسلم لیگ (ق) نے وفاق میں اتحادی ہونے کے باوجود عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ دیا۔ کہانی میں ایک دم ٹوئسٹ تب آیا جب (ق) لیگ کے واحد رکن قومی اسمبلی اور پرویزالہٰی کے بیٹے مونس الہٰی نے اپنا وزن عمران خان کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عمران خان نے اپنے عوامی جلسوں میں بار بار یہ سبق دہرایا کہ اتحادیوں سے مل کر حکومت کرنے کا تجربہ بہت تلخ رہا ہے، آئندہ اگر دوتہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لیں گے۔ مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ بہت کچھ گنوانے کے بعد بھی پنجاب میں چوہدری پرویز الہٰی کے اتحاد سے باہر نکلنے کا حوصلہ نہیں کرپا رہے۔

پنجاب اسمبلی میں یہ دلچسپت صورتحال ہے کہ بازی الٹنے کا کارڈ 10 نشستیں رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جیب میں ہے اور 178 کے قریب نشستیں رکھنے والی تحریک انصاف پرویزالہٰی کے رحم و کرم پر ہے۔

اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عمران خان جب اپنے اراکین کے ہمراہ قومی اسمبلی سے استعفے دے کر اور کرپٹ نظام کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرکے حقیقی آزادی کی تحریک کے نام پر سڑکوں پر آگئے اور بتایا کہ یہ تحریک اب انقلاب کی شکل اختیار کررہی ہے۔ انقلابی تحریک کے اس اہم مرحلے پر وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی قائد تحریک کو انقلاب کے ہجوم سے اچک کر پنجاب اسمبلی کی سیاست میں لے آئے، وزارت اعلٰی کی نشست پر ساڑھے تین سال سے نظریں جمائے پرویز الہٰی نے اپنے کپتان کو مشورہ دیا کہ وہ وسیم اکرم پلس (وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار) کو مائنس کرکے اس خادم کو موقع دیں تو وہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کی کوشش ناکام بنا سکتے ہیں۔ پرویزالہٰی اپنے اس مشورے میں اس طرح کامیاب ہوئے کہ نہ صرف عمران خان کو ان کے اس وسیم اکرم پلس سے محروم کردیا جس کی خاطر عمران خان نے دوہزار اٹھارہ کے انتخابات کے ماسٹر مائنڈ اور فنانسر جہانگیر ترین اور علیم خان کو بھی الوداع کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی بلکہ حقیقی آزادی کی تحریک کا پہلا مرحلہ بھی رک سا گیا۔

عمران خان سے قربت رکھنے والے تحریک انصاف کے ایک سابق رکن قومی اسمبلی بتاتے ہیں کہ جب عمران خان کو یاد کرایا گیا کہ ہم پاکستان کی حقیقی آزادی کے سفر پر نکلے ہوئے تھے مگر پنجاب کے ایوان میں آپ کا پڑاؤ کچھ زیادہ ہوگیا ہے تو انہیں احساس ہوا اور پھر وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کو اسلام آباد لے جانے کا اعلان کرنے لگے۔ ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ لاکھوں افراد کے ہمراہ اسلام آباد پڑاؤ ڈال کر نہ صرف الیکشن کی جلد تاریخ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے بلکہ اسی دوران وہ اہم تعیناتی سے متعلق بھی کچھ نتائج حاصل کرلیں گے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے حقیقی آزادی کی تحریک کے سفر کا آغاز کردیا اور ان کی منزل اسلام آباد تھی۔ ٹھیک چھ روز بعد حقیقی آزادی مارچ کو ایک بار پھر رکاوٹ کا سامنا ہوا جب پنجاب کے شہر وزیرآباد کے قریب 3 نومبر کو عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا اور دیگر افراد کے ساتھ عمران خان بھی زخمی ہوگئے۔ زخمی عمران خان کو لاہور میں اپنی پرانی رہائش گاہ زمان پارک میں کچھ روز آرام کےلئے رکنا پڑا جہاں سے انہوں نے اسلام آباد جانے کا ارادہ تو ترک کردیا تاہم 26 نومبر کو راولپندی میں ایک پاور شو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

لانگ مارچ کے نتائج اور آئندہ انتخابات تک عمران خان کی جدوجہد جاری رکھنے تک تو پنجاب میں عمران خان کے اتحادی متفق تھے، مگر جیسے ہی عمران خان نے راولپنڈی شو میں پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا تو پرویزالہٰی اور انکے صاحبزادے مونس الہٰی الرٹ ہوگئے۔ اور ان کی نظر میں یہ سوال جنم لینے لگے کہ اگر پنجاب حکومت چلی گئی تو پرویزالہٰی اور مونس الہٰی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔

اگر پنجاب اسملبی کے انتخابات میں تحریک انصاف دوتہائی اکثریت کا دعوٰی پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو (ق) لیگ کا سٹیٹس کیا ہوگا۔ ان سوالات کا جواب ملنے تک پرویزالہٰی چیئرمین عمران خان کو اسمبلی کی تحلیل کا پروگرام موخرکرنے کےلئے مختلف تاولیں پیش کررہے ہیں۔ اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کررہے ہیں۔ اب تو تحریک انصاف کے کچھ رہنما محفلوں میں یہ بات کرتے نظر آتے ہیں کہ پرویزالہٰی نے کپتان کی حقیقی آزادی کی تحریک کو ایوان وزیراعلٰی میں ڈمپ کردیا ہے۔

جنرل باجوہ کو مورد الزام ٹہرانے والے عمران خان ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے اتحادی میزبان پرویزالہٰی کی زبان سے یہ تعریف بھی سن چکے ہیں کہ وہ عالم اسلام کی خدمت کرنے والے جرنیل تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پرویزالہٰی کی زبان سے یہ بھی سن چکے ہیں کہ جنرل باجوہ کوئی ڈبل گیم نہیں کررہے تھے تو اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ آئندہ انتخابات تک پنجاب کے میزبانوں کے پاس محفوظ پناہ گاہ میں رہنا پسند کریں گے، یا اپنے اس موقف کو دوبارہ اختیار کریں گے کہ ’‘ یہ خوف ہی ہوتا ہے جو انسان کو غلام بناتا ہے’’۔

rawalpindi

imran khan

Chaudhry Pervaiz Elahi

Gate No. 4

Comments are closed on this story.

مقبول ترین