Aaj News

بدھ, مئ 22, 2024  
13 Dhul-Qadah 1445  

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں مذاکرات کامیاب

وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ نے پورے سندھ پر قبضہ کیاہواہے، اب یہ کراچی پر بھی اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں، حافظ نعیم
شائع 05 جنوری 2023 09:00pm

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے خلاف جماعت اسلامی نے دھرنا دیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ منانے پہنچ گئے، جس کے بعد جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں مذاکرات کامیاب ہوگئے اور دھرنا ختم کئے جانے کا امکان ہے۔

جماعت اسلامی نے پولو گراؤنڈ میں دھرنا جس کے بعد پولو گراؤنڈ کے قریب پولیس نے رکاوٹیں لگادیں اور پولیس کی بھاری نفری ریڈزون میں تعینات کردی گئی۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین نے جماعت اسلامی کو یقین دلایا کہ تاخیر نہیں ہوگی اور انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔

ناصر حسین نے مظاہرین سے گفتگو میں کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی موجود ہے اس لیے مظاہرین کو روکا، سی ایم ہاؤس کے دروازے آپ کیلئے کھلےہیں۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انتخابات آپ سب کے سامنے ہیں، پہلے بارشوں کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے رپورٹ لی، دوسری بار سیلابی صورتِ حال اور سیکیورٹی کا مسئلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے لیے زیادہ فورس درکار ہوتی ہے، الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، ہم بھی پرامید ہیں کہ ہمارے لوگ آئیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن سے پیپلز پارٹی کبھی خائف نہیں رہی، ہم بھی الیکشن چاہتے ہیں، میں آج سی ایم صاحب اور لیڈر شپ سے بات کروں گا اور آپ سے گزارش کروں گا دھرنے کو مؤخر کیا جائے۔

’ وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ اب کراچی پر اپنا تسلط چاہتا ہے’

قبل ازیں، دھرنے سے خطاب میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے مل کر لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے، سندھ حکومت ہمیں بنیادی حق سے محروم کررہی ہے، پورا کراچی شہر کھنڈر بنا ہوا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں ایسے ہی قبضہ برقرار رہے، متحدہ اور پی پی کا گٹھ جوڑ 35 سال سے جاری ہے، بظاہراختلاف ہے لیکن یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری ن لیگ کے دور میں ہوئی، پونے 3 کروڑ آبادی کو ایک کروڑ 60 لاکھ ظاہر کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ایم کیوایم ہمیشہ سے اقتدار کی بھوکی ہے، انہوں نےاس آدھی گنتی کو منظورکیا، پی ٹی آئی نے بھی اسے قانونی تحفظ دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے کے مطابق ہمارا حق نہیں دیا جارہا، پی پی متحدہ کے ذریعے سوداگری کررہی ہے، مذاکرات کے نام پر کارروائی جاری ہے، یہ کارروائی نہیں نورا کشتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 14 ایم این ایز کراچی کی بات نہیں کرتے، وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ نے پورے سندھ پر قبضہ کیاہواہے، اب یہ کراچی پر بھی اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ ایم کیوایم حلقہ بندیوں کا بہانہ بنا رہی ہے، یہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہے، ایم کیوایم نے کراچی کے ادارے سندھ حکومت کو دے دیئے اور معاوضے میں وزارتیں حاصل کرتے رہے، ایم کیوایم کبھی شہر کے اختیارات کیلئےنہیں روٹھی، ہمیشہ وزارتوں کیلئے ناراض ہوتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے، پی پی پارٹیوں کو ملاکر کراچی کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔

local bodies election

karachi

PPP

protest

Jamat e Islami

Sit in