Aaj News

ڈالر ریٹ کا فرق بڑھنے سے ہنڈی حوالہ بڑھا، کوئی کارٹیلائیزشن نہیں ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

اس وقت ہمارے پاس مہنگائی اور عالمی ادائیگیاں جیسے دو بڑے مسائل ہیں، جمیل احمد
شائع 04 جولائ 2023 01:08pm
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد۔ فوٹو — اسکرین گریب
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد۔ فوٹو — اسکرین گریب

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ڈالر ریٹ کا فرق بڑھنے سے ہنڈی حوالہ بڑھا، کوئی کارٹیلائیزشن نہیں ہے۔

کراچی میں اسٹیٹ بینک کے 75 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ قائداعظم کے اصول ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، ملکی معیشت کو کئی بار چیلنجز کا سامنا رہا، البتہ پاکستانی بینکنگ قوانین جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایک خودمختار اور آزاد ادارہ ہے، اس کے موجودہ قانون میں فنانشل اسٹیبلیٹی ہے، مانیٹری پالیسی کو بھی ہم نےکافی آزاد بنایا ہے، مستقل معاشی ترقی پر ہماری توجہ مرکوز ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی 16 ہزار سے زائد برانچز کام کر رہی ہیں، جدیدٹیکنالوجی کی وجہ سے صارفین کو سہولت ملی، لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر اکاؤنٹ ہینڈل کر سکتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔

جمیل احمد نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے، ہماری پالیسیز مہنگائی کنٹرول کرنے پر فوکس ہیں، معیشت کی بہتری کے لئے مسلسل کام کر رہے ہیں، لہٰذا بینکس کی سپورٹ سے مختلف اسکیمز بھی لائیں گے۔

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے 75 سال مکمل ہونے پر نیا نوٹ جاری کیا، یہ نوٹ اور اس سے پہلے والا نوٹ مارکیٹ میں چل سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے پانچ سال کا ویژن رکھا ہے تاکہ بینکاری کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے، ڈالر کی کوئی کارٹیلائزشین نہیں، امپورٹ پر عائد پابندی بھی ختم کی گئی، اب ڈالر کی سپلائی بہتر ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس مہنگائی اور عالمی ادائیگیاں جیسے دو بڑے مسائل ہیں، جسے آئی ایم پروگرام سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک گورنر نے کہا کہ مہنگائی کے نمبر میں کافی بہتر آئی ہے، ڈالر ریٹ کا فرق بڑھنے سے ہنڈی حوالہ بڑھا تھا، ہم نے انٹربنک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ کے فرق کو بھی کم کیا ہے، امید ہے اب ترسیلات لیگل چینلز سے آئیں گے۔

SBP

IMF

Dollar

State Bank Of pakistan

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div