Aaj News

منگل, مئ 21, 2024  
12 Dhul-Qadah 1445  

شمالی کوریا نے کروز میزائل چلا دیئے

امریکا نے جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز تعینات کردی۔
شائع 22 جولائ 2023 12:32pm
تصویر: اے ایف پی
تصویر: اے ایف پی

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی بندرگاہ پر جوہری ہتھیاروں سے لیس امریکی آبدوز پہنچائے جانے کے بعد احتجاجاً ”جزیرہ نما کوریا“ کے مغرب میں سمندر کی طرف کئی کروز میزائل داغ دیے ہیں۔

بدھ کو شمالی کوریا نے اپنے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے تھے جنہوں نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر میں گرنے سے پہلے تقریباً 550 کلومیٹر (341 میل) کا فاصلہ طے کیا۔

ان میزائلوں کی پرواز کا فاصلہ پیانگ یانگ اور جنوبی کوریا کے بندرگاہی شہر بوسان کے درمیان فاصلے سے تقریباً مماثل ہے، جہاں جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز یو ایس ایس کینٹکی موجود ہے، یہ 1980 کی دہائی کے بعد امریکی جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز کا جنوبی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔

اس کے بعد ہفتے کو شمالی کوریا نے مزید کروز میزائل جنوبی کوریا کی جانب داغے۔ ہفتہ کو داغے گئے میزائلوں نے جو فاصلہ طے کیا ان کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

یہ میزائل لانچ ایسے وقت میں کیا گیا جب جب سیول اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے تناظر میں دفاعی تعاون کو مضبوط کیا جارہا ہے، جس میں جدید اسٹیلتھ جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اور جوہری ہنگامی منصوبہ بندی کی میٹنگز کے نئے دور شامل ہیں۔

شمالی کوریا کے وزیر دفاع نے جمعرات کو ایک دھمکی جاری کی، جس میں کہا کیا گیا کہ جنوبی کوریا میں کینٹکی کی ڈاکنگ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری حملے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے وزیر دفاع کانگ سن نام نے کہا کہ اوہائیو کلاس آبدوز کی تعیناتی ’جوہری طاقت کی پالیسی پر شمالی کوریا کے قانون میں بیان کردہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی شرائط کے تحت‘ آسکتی ہے’۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کینٹکی کی تعیناتی اور واشنگٹن اور سیول کے درمیان جوہری ہنگامی منصوبہ بندی کی میٹنگز کو شمالی کوریا کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ”دفاعی ردعمل کے اقدامات“ قرار دیا۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کا ”فوری اور فیصلہ کن جواب“ دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں کم جونگ اُن کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

South Korea

North Korea

North Korean missile launches

US nuclear armed submarine

USS Kentucky