Aaj News

قومی اسمبلی نے آج بھی 8 بل منظور کرلیے

ارکان کے اسلحہ لائسنس نہ بننے پر احتجاجاً وزارت داخلہ کا بل مؤخر
شائع 03 اگست 2023 07:35pm

قومی اسمبلی نے آج بھی 8 بل منظور کرلیے، ارکان کے اسلحہ لائسنس نہ بننے پر احتجاجاً وزارت داخلہ کا بل مؤخر کردیا گیا۔ یونیورسٹیوں کے قیام کے بلوں کی منظوری کے خلاف عبدالکبرچترالی نے احتجاج کیا جبکہ کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں عبدالکبر چترالی نے وزراء کی عدم موجودگی پر احتجاج کیا۔ متعلقہ وزراء کی عدم موجودگی کے باعث اسپیکر نے وقفہ سوالات مؤخر کر دیا۔

مزید پڑھیں: ملکی پارلیمانی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم، 4 دن میں 54 بلز منظور

نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فائنانسنگ آف ٹیررزم اتھارٹی کے قیام کا بل حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی گئی۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنانسنگ کی روک تھام کے لیے تمام امور ایک ہی اتھارٹی کے تحت لائے جائیں گے۔

تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ادارے کے قیام کا بل 2023 مشترکہ اجلاس کو بھجوا دیا گیا۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت عارف علوی نے 5 بلوں کی منظوری دے دی

قومی اسمبلی نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا تحفظ ترمیمی بل 2023 اور پریس، اخبارات، نیوز ایجنسی اور کتب رجسٹریشن ترمیمی بل 2023 بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیے۔

قومی اسمبلی نے پاکستان سول ایوی ایشن بل 2023 کی منظوری دے دی، بل وفاقی وزیر مرتضی جاوید عباسی نے پیش کیا۔

قومی اسمبلی نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن این ایل سی کے قیام کا بل منظور کر لیا۔ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن بل 2023 وفاقی وزیر مرتضی جاوید عباسی نے ایوان میں پیش کیا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کثرات رائے سے منظور کرلیا

مرتضی جاوید عباسی نے فیڈرل پروسیکیوشن سروس بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش کیا جس پر عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اسپیکر ارکان کے اسلحہ لائسنس نہیں بن رہے، اگر آپ نے وزارت داخلہ کی قانون سازی مؤخر نہ کی تو میں کورم کی نشاندہی کروں گا۔

ارکان قومی اسمبلی کے اسلحہ لائسنس نہ بننے پر وزارت داخلہ سے متعلق قانون سازی مؤخر کر دی گئی۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے والی ہے ارکان کے اسلحہ لائسنسوں کی درخواستوں پر فوراً عمل کیا جائے۔ وزیر داخلہ کل آ کر ایوان میں ارکان کو مطمئن کریں، اس کے بعد وزارت داخلہ کی قانون سازی کی جائے گی۔

قومی اسمبلی نے گن اینڈ کنٹری کلب بل 2023 منظور کر لیا۔ فضائی حادثات کی بہتر تحقیقات کے لیے ایئر سیفٹی انویسٹیگیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا، بل سینٹ نے ترامیم کے ساتھ منظور کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز کی منظوری پر عبدالاکبر چترالی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں سے متعلق قانون سازی پر میڈیا اور عوام میں قومی اسمبلی پر تنقید کی جا رہی ہے، پیسے لے کر یونیورسٹیوں کے بل منظور کروائے جا رہے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یونیورسٹیاں بنانا کوئی بری بات نہیں۔ قانون سازی کے بعد اگر ایچ ای سی کے معیار پر پورا نہ اتری تو یونیورسٹی شروع نہیں کی جا سکتی۔

قومی اسمبلی نے انسٹیٹیوٹ آف گجرات کے قیام کا بل منظور کر لیا۔ بل چوہدری ارمغان سبحانی نے پیش کیا۔

یونیورسٹیوں کے قیام کے بل کی منظوری کے خلاف عبدالاکبر چترالی نے احتجاجاً کورم کی نشاندہی کر دی۔

کورم کی نشاندہی ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کاروائی جمعہ 11 بجے تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد

National Assembly

speaker national assembly

Raja Pervaiz Ashraf

molana abdul akbar chitrali

8 bills passed

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div