Aaj News

جمعہ, جولائ 19, 2024  
13 Muharram 1446  

طالبعلم کو تھپڑ لگوانے کا واقعہ، خبر کی حقیقت جانچنے والے مسلمان صحافی کیخلاف مقدمہ درج

خاتون ٹیچر کے حکم پر ہم جماعتوں نے اپنے مسلمان ساتھی طالب علم کو تھپڑ مارے تھے۔
شائع 28 اگست 2023 05:37pm

واقعات اور خبروں کی حقیقت جانچنے والی بھارتی ویب سائٹ ”آلٹ نیوز“ کے شریک بانی اور مسلمان صحافی محمد زبیر کے خلاف مبینہ طور پر اسکول میں ساتھی طلب علموں سے مسلمان بچے کو پٹوانے والی اسکول ٹیچر کے معاملے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

محمد زبیر کے خلاف مقدمہ طالب علم کی شناخت ظاہر کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔

اتر پردیش کے ایک اسکول میں خاتون ٹیچر کے حکم پر ہم جماعتوں نے اپنے مسلمان ساتھی طالب علم کو تھپڑ مارے تھے۔

یہ واقعہ اتر پردیش کے مظفر نگر میں پیش آیا جو اتفاقاً ریکارڈ کرلیا گیا۔

خاتون ٹیچر نے بچوں کے ہاتھوں طالب علم کی پٹائی کے خلاف اپنی معذوری کو جواز بنایا تھا۔

مزید پڑھیں

بھارت میں کیس واپس نہ لینے پرنچلی ذات کی خاتون کو برہنہ کردیا گیا، بیٹا قتل

بھارت میں بغیر شادی رہنے والے ایک اور جوڑے کا المناک انجام، پریشر ککر سے قتل

’خاتون ڈاکٹر پر چار انتہا پسند پل پڑے‘۔ بھارتی مسلمانوں پر مظالم کی داستانیں عالمی میڈیا تک پہنچ گئیں

ٹیچر ترپتا تیاگی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایسے جرائم قابل ضمانت ہیں اور فوری گرفتاری کا باعث نہیں بنتے، اور ان کے لیے وارنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

محمد زبیر کے خلاف مظفر نگر کے ایک پولیس اسٹیشن میں جوینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 74 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اپنے دفاع میں ترپتا تیاگی نے کہا کہ کشیدگی کو بڑھانے کے لیے ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو طالب علم کے رشتہ دار نے بنائی تھی۔

ترپتا تیاگی نے کہا کہ اگرچہ ایک طالب علم کو ان کے ہم جماعتوں کے ذریعہ تھپڑ مروانا اس کی طرف سے غلط تھا، لیکن اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ معذور ہیں اور اس لڑکے تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔

دریں اثنا، محکمہ تعلیم نے اسکول سے وضاحت طلب کی ہے۔

مظفر نگر کے بنیادی شکشا ادھیکاری (بی ایس اے) شبھم شکلا نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’جس بچے کو تھپڑ مارے گئے اس کے والد نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا وہاں پڑھائی جاری رکھے۔‘

’تاہم، بلاک ایجوکیشن آفیسر نے بچے سے بات کی، اور اس نے گاؤں کے سرکاری پرائمری اسکول میں پڑھنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ پیر کو اس کا داخلہ سرکاری اسکول میں کیا جائے گا، بشرطیکہ اس کا خاندان ایسا کرنے پر راضی ہو‘۔

Muhammad Zubair

ALT News