Aaj News

جمعہ, مارچ 01, 2024  
19 Shaban 1445  

تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ دوبارہ گرفتاری کے بعد اٹک جیل پہنچا دیے گئے

پرویزالٰہی نے ایم پی او کے تحت گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی
اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2023 05:23pm

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو اڈیالہ کے بجائے اٹک جیل پہنچا دیا گیا ہے جہاں عمران خان پہلے ہی قید ہیں۔

گزشتہ روز عدالت نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا بھی حکم دیا تھا، تاہم وہ جیسے ہی لاہور ہائی کورٹ سے نکل کر کینال روڈ پہنچے تو انہیں اسلام آباد پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا۔

پولیس اہلکاروں نے پرویزالہیٰ کو ہاتھوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر اٹھایا، گاڑی میں بٹھایا اور انہیں لے کر چلی گئی۔

 اسلام آباد پولیس پرویزالہیٰ کو اٹھا کر لے جاتے ہوئے
اسلام آباد پولیس پرویزالہیٰ کو اٹھا کر لے جاتے ہوئے

پرویز الہٰی کے صاحبزادے مونس الہی نے ایکس پر ٹویٹ میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی گاڑی ہماری گلی میں داخل ہوئی اسے روک کر ان کے والد کو اغوا کرلیا گیا۔

مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ پولیس اور کورٹ سیکیورٹی میرے والد کو گھر لارہی تھی، اگر عدالتی احکامات کا اس طرح مزاق اڑانا ہے تو اس کا سرکاری سطح پر اعلان کردیں۔

حکام کے مطابق پرویزالہٰی کو تھری ایم پی او کے تحت 15 روز کیلئے گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں 15 دن کیلئے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا، لیکن رات گئے انہیں اٹک جیل پہنچا دیا گیا۔

جیل ذرائع کے مطابق اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں چوہدری پرویز الٰہی کا طبی معائنہ کیا گیا، ڈاکٹروں کی 3 رکنی ٹیم کی رپورٹ میں انہیں فٹ قرار دیا گیا۔

اس دوران چوہدری پرویز الٰہی کا ذاتی ملازم ان کا سامان لے کر جیل پہنچ گیا، ملازم جو بیگ لایا اس میں ادویات، کپڑے اور دیگر ضروریات کا سامان شامل تھا۔

چوہدری پرویز الہیٰ کو عدالتی حکم کے باوجود گرفتار کیا گیا تو ان کے وکلاء نےایم پی او کے تحت گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دی گئی درخواست میں ایم پی او کے تحت ان کی گرفتاری کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ مجھے سیاسی بنیادوں پرانتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

گرفتاری کا حکم

صدر تحریک انصاف پرویز الہٰی کی گرفتاری کا تھری ایم پی او آرڈر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کیا گیا۔

حکم نامہ میں کہا گیا کہ پرویزالہیٰ امن وامان کی صورتحال کو نقصان پہنچانے میں ملوث رہے ہیں، تحریک انصاف کی اسلام آباد میں بھرپور عوامی حمایت ہے، پرویز الہیٰ کارکنوں کو امن خراب کرنے کیلئے اکسا سکتے ہیں۔

تھری ایم پی او کے حکم نامہ میں مزید لکھا گیا کہ ماضی میں بھی کارکنان نے امن وامان کی صورتحال کونقصان پہنچایا، امن وامان کی صورتحال کونقصان پہنچانے پر پرویز الہٰی پر مقدمات درج ہیں۔

حکم نامہ کے مطابق پرویزالہیٰ امن و امان کی صورتحال کیلئے خطرہ ثابت ہوں گے، وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےخلاف منصوبے بناچکےہیں، پرویز الہیٰ کو 3 ایم پی او کے تحت 30 دن گرفتار رکھنے کی تجویز ہے، بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ 15 دن کیلئے قید میں رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔

لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو بحفاظت گھر نہ پہنچانے پر لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کردی گئی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے پرویز الہٰی کی بازیابی کا حکم دے۔

قیصرہ الہٰی کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز الہٰی کو پولیس افسران نے گھر نہیں پہنچایا۔ عدالت ڈی آئی کی آپریشنز اور ڈی آئی کی انویسٹی گیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

درخواست میں ڈی آئی جی آپریشنز ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ایس پی سکیورٹی ہائیکورٹ کو فریق بنایا گیا۔

درخواست گزار نے چیف جسٹس سے درخواست کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔

رجسٹرار آفس نے قیصرہ الہٰی کی درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے سے معذرت کرلی۔

پرویزالہیٰ کی گرفتاری کے لئے ایف آئی اے اور نیب اہلکاروں میں لڑائی

اس تمام معاملے سے قبل پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لئے اینٹی کرپشن کی نفری عدالت کے باہر موجود تھی، ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشن پولیس بھی بھاری نفری کے ہمراہ تھے۔

رہائی ملنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اہلکار دوسرے مقدمے میں پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لئے نیب کی گاڑی پر سوار ہوگئے تاہم نیب اہلکاروں نے انہیں دھکے دے کر گاڑی سے باہر نکالتے ہوئے کہا کہ اب سابق وزیراعلیٰ کی گرفتاری نہیں ہو سکتی۔

 پرویزالہیٰ رہائی کے موقع پر
پرویزالہیٰ رہائی کے موقع پر

پرویز الہی کی رہائی کا تحریری حکم نامہ

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی کی رہائی کا تحریری حکم جاری کردیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے پرویز الٰہی کو نیب اور کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے گرفتار کرنے سے روک دیا، کوئی اتھارٹی ،ایجنسی اور آفس درخواست گزار کو گرفتار نہ کرے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ پرویز الٰہی کو نظر بندی کے قانون کے تحت بھی حراست میں نہ لیا جائے۔

 پرویزالہیٰ کی دوبارہ گرفتاری
پرویزالہیٰ کی دوبارہ گرفتاری

عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے پرویز الہی کو گرفتار کرنے سے روکا تھا، نیب نے پرویز الہی کو اس وقت گرفتار کیا جب سنگل بینچ کا فیصلہ معطل تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق دو رکنی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی اور سنگل بینچ کا فیصلہ بحال کردیا تھا، دو رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد نیب کی حراست غیر قانونی تھی جب کہ عدالتی ہدایت پر درخواست گزار کو عدالت پیش کیا گیا جسے عدالت رہا کرنے کا حکم دیتی ہے۔

عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔

پرویزالہیٰ کے کیس کی دو بار سماعت

پرویز الٰہی رہائی ملنے کے باوجود عدالت سے باہر نہ جا سکے، اس سلسلے میں جسٹس امجد رفیق نے لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس کی دوبارہ سماعت کی۔

پرویز الٰہی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ باہر یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں بہت سے اہلکار موجود ہیں، عدالتی حکم بہت واضح ہے، لہٰذا پولیس کو ہدایت کریں کہ پرویز الٰہی کو گھر تک چھوڑ کر آئیں۔

 پولیس پرویزالہیٰ کو ہاتھ پاؤں لٹکائے ہوئے لے گئی
پولیس پرویزالہیٰ کو ہاتھ پاؤں لٹکائے ہوئے لے گئی

لاہور ہائی کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسر کو کہتے ہیں کہ انہیں چھوڑ آئیں، رجسٹرار کو بلا کر ڈائریکشن بھی دے دیتے ہیں۔

ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی رائے ظہور جسٹس امجد رفیق کی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ متعلقہ ایس پی کے ساتھ ملکر پرویز الٰہی کو گھر ڈراپ کریں، کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے پرویز الٰہی کو گھر چھوڑنے کے لئے پولیس کو ہدایت کی، جس پر ایس پی اقبال ٹاؤن اور ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی نے کہا کہ عدالت کے حکم پر عمل کریں گے۔

پرویزالہیٰ کو ایک گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم

قبل ازیں لاہورہائیکورٹ نے پرویزالٰہی کی نیب گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نیب کو ایک گھنٹے میں سابق وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

گرفتاری کے خلاف پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت جسٹس امجد رفیق نے کی، عدالت نے ڈی سی کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 بجے تک ملتوی کردی گئی تھی جس کا دوبارہ آغاز ہوتے ہی عدالت نے پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا۔

اس سے قبل سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم کے باوجود پرویز الہی کو عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جس پر لاہور ہائی کورٹ نے نیب پراسکیوٹر سے استفسارکیا تھا کہ بتائیے پرویز الہی کدھر ہیںَ؟ انہیں کیوں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

جسٹس امجد رفیق کا تھا کہ اگرآپ نے پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا تو ڈی جی نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم پرویزالٰہی کوپیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگرعدالت تمام ذمہ داری خود لیتی ہے تو ہمیں اعتراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

پرویز الٰہی نے عدالت کے سامنے جیل انتظامیہ کیخلاف شکایات کا انبار لگا دیا

چوہدری پرویز الٰہی کی منی لانڈرنگ کیس میں سماعت مزید 15 ستمبر تک ملتوی

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ ہائیکورٹ کونیچا دیکھانے کی کوشش کررہے ہیں، یہ ادارہ آئین کیلئے بنا ہے اور آپ آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

پرویز الٰہی کو یکم جون کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کی تصاویر ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی گئی تھیں۔

انہوں نے تین ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ساتھ ہوں پریس کانفرنس نہیں کروں گا

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے رہائی کا حکم ملنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوں، پریس کانفرنس نہیں کروں گا، ایسے ہی 4 ماہ جیل میں نہیں رہا۔

پرویزالہیٰ نے کہا کہ جب بھی ن لیگ آئی ہے انہوں نے مہنگائی ہی کی، ملک کا بیڑا غرق کرکے ان کی قیادت لندن بھاگ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو اندر رکھا ہوا تھا، پتا نہیں ملک کا کیا کر رہے ہیں، البتہ اب تو آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا ہے کہ الیکشن کروائیں۔

NAB

Chaudhry Pervaiz Elahi

Lahore High Court

Pervaiz Elahi

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div