Aaj News

ہفتہ, اپريل 13, 2024  
04 Shawwal 1445  

فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس: ہمارا امتحان پاس ہوگیا، اب آپ کی باری ہے، چیف جسٹس

انٹیلی جنس بیورو اور پیمرا کے بعد وفاق ، پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن نے بھی درخواستیں واپس لے لیں
اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2023 06:29pm
تصویر: اے ایف پی/ فائل
تصویر: اے ایف پی/ فائل

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ انٹیلی جنس بیورو اور پیمرا کے بعد وفاقی حکومت، پی ٹی آئی اور پھر الیکشن کمیشن نے بھی اپنی درخواستیں واپس لے لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ، ’ یہ سب نے تسلیم کیا کہ عدالتی فیصلہ سچ تھا، ہمارا امتحان پاس ہوگیا، اب آپ کی باری ہے، اس دھرنے کے بعد کئی اور ایسے ہی واقعات سامنے آئے، اگر فیصلے پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے’۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ہم فیصلے کی 17 ہدایات پر عمل سے صحیح سمت میں چلیں گے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج نظرثانی کی 9 درخواستوں پرسماعت کر رہے ہیں، پہلے تمام درخواستگزاروں کی حاضری لگاٸیں۔

وفاقی حکومت نے نظرثانی درخواست واپس لی جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ درخواست کیوں واپس لے رہے کوئی وجہ ہے؟۔ جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی خاص وجہ نہیں، نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔

وفاق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے بھی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی۔

ٓوکیل علی طفرنے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ اس پرچیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا آپ کو درخواست واپس لینے کا اختیار ہے؟ اگر آپ فریق بننا چاہتے ہیں تو عدالت آپکو اجازت دے گی۔

بیرسٹرعلی ظفرنے جواب دیا کہ، ’نہیں ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک جج جسٹس مشیر عالم ریٹائر ہو گئے ہیں، پہلے کہا گیا فیصلے میں غلطیاں ہیں، اب واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ کیس کے فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل جب دائر کی گئی اس وقت حکومت اور تھی۔

چیف جسٹس کی جانب سے تحریری درخواست دائر نہ کیے جانے سے متعلق استفسارپراٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنا بیان دے رہا ہوں۔

اس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی نظرثانی درخواست واپس لینے کی استدعا کیے جانے پرچیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ عدالت کاوقت ضاٸع کیا گیا،آپ نے پہلے کہا کہ فیصلے میں غلطی ہے۔ ملک کو ٹینشن میں رکھا گیا۔ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ پیروی نہیں کریں گے تو آپ کا بیان اس وقت غلط تھا یا آج؟۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن ایک آٸینی ادارہ ہے اورآٸینی اداروں کو عزت ملنی چاہیے، آپ نے قانون کو کاسمیٹکس کہا تھا۔

ہم سے یہ کھیل نہ کھیلیں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیاالیکشن کمیشن اور پیمرا نے فری ول سے درخواستیں داٸر کی تھیں، پاکستان میں وہی چلتا ہے کہ حکم اوپر سے آیا ہے۔ اگر درخواست دی تو اب سامنا بھی کریں،ہم سے یہ کھیل نہ کھیلیں، آپ میں بتانے کی ہمت ہے یا نہیں؟ سزا جزا تو بعد کی بات ہے پہلے اعتراف جرم تو کرلیں، کیا آپ بتاٸیں گے کہ کس کےحکم پر درخواستیں داٸر کیں۔آپ سمجھتےہیں کہ عدالت کواپنےکیلٸےاستعمال کرینگےتوایسا نہیں ہوگا۔

55 لوگ مارے گئے، حساب کون دے گا؟

چیف جسٹس نے سماعت کے آغازہی وفاق، پی ٹی آئی اور الیکنش کمیشن کی جانب سے دائرنظرثانی درخواستیں واپس لیے جانے پر اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ تقریریں توبہت کرتےہیں ہمت کرکےعدالت کوبھی بتاٸیں؟۔ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان کہا سے کہاں آگیا۔سب نظرثانی درخواستیں واپس ہوجائیں توہمارےفیصلے کا کیا ہوگا۔ کیا 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سب لوگ ڈرے ہوئےکیوں ہیں، کوئی درست بات نہیں بتارہا۔ مجھ سمیت احتساب سب کا ہونا چاہئیے اور اس سے کسی کو انکارنہیں ہونا چاہیے۔ فیصلے میں 12مئی کا ذکرتھا کہ 55 لوگ مارےگئے اس کا حساب کون دے گا۔ نظرثانی واپس لیکریہ نہیں کہاجاسکتا کہ جوہوامٹی پاؤ 12مئی کے واقعات پربھی مٹی پاؤ کہیں گے کیا؟۔آج فیصلہ درست مان رہےہیں تو درخواستیں کیوں دائرکیں۔ توقع تھی ایک نظرثانی درخواست آئے گی لیکن 3 آگئیں۔

سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہرالقادری کا نام لیے بغیر چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وہ صاحب کدھرہیں جوکینیڈا سے جمہوریت کیلئےآئے تھے۔ ایک صاحب کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرناچاہتا، ہوسکتا ہے کہ مقدمات ہمارے سامنے آجائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وکیل توبڑے باہمت ہوتے ہیں سچ ہی بول دیں۔

آپ لوگوں نے آج فیصلہ سچ مان لیا

چیف جسٹس نے کہا کہ فیض آباد دھرنا معاہدے پر دستخط کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائیں یا کہیں کہ معاملہ اگلی افراتفری تک ایسا ہی رہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے نظرِثانی اپیل دائر کرنے پر معافی نامے سے متعلق استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ، ’صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم درخواست واپس لے رہے ہیں، یا تو آپ کہیں دھرنے والوں کے ساتھ معاہدے پر جس کے دستخط تھے ان کیخلاف ایکشن لے رہے ہیں۔ یا تو بتائیں نا کہ ہم نے فیصلے کی فلاں فلاں باتوں پرعمل کر یا۔ یا پھر ایسے ہی اگلی افرا تفری تک رہنے دینا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ، 12 مئی کو پاکستانی سیاست میں ایک نئی چیزکنٹینرزمتعارف ہوئی۔ ایم کیو ایم آج یہاں ہمارے سامنے آئی ہی نہیں، ان کے ایک وزیر تھے آج ان کی طرف سے کوئی نہیں آیا اس دھرنے کے بعد کئی اور ایسے واقعات سامنے آئے۔ اگر اس وقت اس فیصلہ پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ، ’ہم فیصلے میں دی گئی 17 ہدایات پرعمل سے صحیح سمت میں چلیں گے۔ آپ لوگوں نے آج فیصلہ سچ مان لیا، اب آپ کا امتحان ہے کہ ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔

فریقین کو تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم

اس کے بعد عدالت نے فیصلہ لکھوانا شروع کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اپنے فیصلے میں پوری داستان لکھی ہے۔ ابھی درخواستیں واپس لینے کا حکم نہیں دے رہے،ابھی صرف بیان ریکارڈ کروانے کا کہہ رہےہیں۔

سپریم کورٹ نے سماعت یکم نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو27 اکتوبر تک تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے لپ اس فیصلے کیخلاف دائر درخواستوں میں سے 2 پہلے ہی واپس لی جاچکی ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے درخواستیں سماعت شروع ہونے سے قبل واپس لی گئی تھیں۔

دیگر درخواست گزاروں میں پاکستان تحریک انصاف، وزارت دفاع، الیکشن کمیشن آف پاکستان، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، اس وقت کے وزیرریلوے شیخ رشید احمد اور سیاستدان اعجاز الحق شامل ہیں۔

شیخ وکیل نے بھی گزشتہ روز کارروائی کو موخر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب بلوچستان کی نگراں کابینہ میں شامل ہیں اس لیے کارروائی کاحصہ نہیں بن سکتے۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز میں رشید کی گرفتاری کے بعد سے اُن سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

فیض آباد دھرنے کا فیصلہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 2017 میں ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد سنایا تھا۔ تحریری حکم فروری 2019 میں جاری کیا گیا تھا۔

نئے چیف جسٹس نے عہدہ سنبھالتے ہی معاملہ فوری طور پرسماعت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں وزارت دفاع اور فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے زیر کمان اہلکاروں کو سزا دیں جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔

Supreme Court

پاکستان

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div