Aaj News

سائفر کیس میں عمران خان کو سزائے موت نہیں ہوگی، اٹارنی جنرل کا عدالت میں بیان

اٹارنی جنرل خود کہہ رہے پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے، وکیل عمران خان
اپ ڈیٹ 16 نومبر 2023 03:10pm
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان. فوٹو:فائل
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان. فوٹو:فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں توسیع کردی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو سزائے موت نہیں ہوگی۔ جس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہ کہ اٹارنی جنرل تو خود کہہ رہے پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اپیل میں جج کی تعیناتی بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے اپیل پر سماعت کی، اٹارنی جنرل اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ اور جسٹس عامرفاروق کا لکھا فیصلہ عدالت کے سامنے پڑھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنگل بینچ نےفیصلےمیں کہااوپن ٹرائل ہونا چاہیے۔ جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ ہم توقع کرتےہیں کہ آپ نےحکمنامہ پڑھاہوگا، ہمیں جیل ٹرائل کےنوٹیفکیشن اورپراسس بتائیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میری رائے میں یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہی نہیں، جان کے خطرے کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن ہوا، 2 اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان جمع ہوا، اور 23 اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہی نہیں، اسے مسترد کیا جائے۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت سے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کےاٹھائے گئے نکات پرجواب دیں گے، عدالت کی جانب سے طلب دستاویز جمع نہیں کرائی جا رہیں۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں لگی سیکشن کے مطابق سزائےموت ہو سکتی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جی معلوم ہے مگر میرا نہیں خیال سزائے موت ہو۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اٹارنی جنرل تو خود کہہ رہے پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب ،ہم نے تو ویسے ہی سوال پوچھے تھے، آپ نے سمری ہی بنادی۔

اٹارنی جنرل جیل ٹرائل سے متعلق کابینہ کی منظوری کا ڈاکومنٹ عدالت میں پیش نہ کرسکے، اور مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ کی منظوری موجود ہے، میں زبان دیتا ہوں وہ پیش کردوں گا، کابینہ کی منظوری سے پہلے دو اہم ایونٹس ہوئے، 7 نومبر کو 3 ، اور 14نومبر کو 2 گواہان کے بیان ریکارڈ کئے گئے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ جب تین گواہان کے بیان ریکارڈ کئے گئے وہ ویسی ہی صورتحال میں ہوئے جیسے فرد جرم ہوئی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی جی ، وکلا کوعدالت میں جانے کی اجازت تھی۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں پیر تک توسیع کردی اور کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ عدالت نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر آج تک حکمِ امتناعی جاری کر رکھا تھا، اور اٹارنی جنرل سے جیل ٹرائل کی وجوہات پر مشتمل تمام ریکارڈ طلب کیا تھا۔

عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سائفر کیس میں اب تک ہو چکے ٹرائل پر بھی سوال اٹھایا تھا اور دور وز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالتوں کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دیتے ہوئے حکم امتناعی جاری کیا تھا اور کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔

14 نومبر کو ہونے والی سماعت کا احوال

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اوپن کورٹ سماعت اور جج تعیناتی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورجسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کیا اور عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیں گے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ نوٹیفکیشن دیکھیں گے کہ کیا لکھا ہوا ہے۔ تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہوگا۔

جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا اسٹیٹس کیا ہوگا، کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہوگا۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ خاندان کے چند افراد کے سماعت میں جانے کا مطلب اوپن کورٹ نہیں، جس طرح سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے اوپن کورٹ کارروائی نہیں کہہ سکتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں تینوں نوٹیفکیشنز ہائیکورٹ کے متعلقہ رولزکے مطابق نہیں۔

عدالت نے خصوصی عدالتوں کو سائفرکیس کی سماعت 16 نومبر تک روکنے کا حکم دیتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔

14 نومبر کو خصوصی عدالت میں ہونے والی سماعت

چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی گزشتہ سماعت 14 نومبر کو جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کوجیل عدالت میں پیش کیا گیا۔

چییرمین پی ٹی آئی کے وکلاء اور ایف آئی اے کی ٹیم 6 گواہان کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقارعباس، شاہ خاور، رضوان عباسی بھی جیل میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے فیملی ممبران میں بشری بی بی، علیمہ خان، عظمی خانم، نورین خانم اور شاویز خان بھی پہنچیں، ملزمان کی فیملیز کو جیل کے کمرہ عدالت تک رسائی دی گئی۔

ایف آئی اے کی جانب سے مزید 6 گواہان کو پیش کیا گیا۔ گواہان میں نادر خان، اقراء اشرف، حسیب بن عزیز شامل ہیں۔

عدالت کی جانب سے صرف دو گواہوں حسیب بن عزیز اوراقراء اشرف کا بیان قلمبند کیا گیا۔ وکلاء صفائی نے گواہ اقراء اشرف پر جرح بھی مکمل کرلی اور دوسرے گواہ حسیب بن عزیز کا ابتدائی بیان قلمبند کیا گیا۔

صبح دس بجے شروع ہونے والی سماعت شام تک جاری رہی، جس کے بعد عدالت نے سائفر کیس کی سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی۔

Islamabad High Court

cypher case Imran Khan

Cypher case

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div