Aaj News

منگل, مئ 28, 2024  
19 Dhul-Qadah 1445  

ایران 48 گھنٹے میں اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے، امریکی اخبار

ایران کو اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائی سے روکنے کیلئے امریکا، یورپ کی کوششیں
اپ ڈیٹ 12 اپريل 2024 08:23pm

شام میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیل کے حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے، امریکی اخبار کے مطابق ایران اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تا زہ ترین کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ایران نے دمشق، شام میں اپنے قونصل خانے پر حملے کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا اور ایران کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنے شہریوں کو ایران اور مشرق وسطی کا سفر کرنے سے منع کر دیا ہے۔ جبکہ بھارت نے اس حوالے سے ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔

یکم اپریل کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ کیا تھا جس میں اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر اور چھ افسران جاں بحق ہوئے تھے۔ جس کے بعد ایران نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر لگایا تھا ، جبکہ اسرائیل نے اس حملے میں اپنے کردار کو عوامی طور پر تسلیم یا تردید نہیں کیا۔

واضح رہے کہ شام کے دارالحکومت میں ایرانی قونصل خانے کو منہدم کرنے والے حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے محمد رضا زاہدی جاں بحق ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کو سزا ملنی چاہیے، اور ہو گی۔ تاہم، تہران نے کہا کہ وہ جلد بازی سے کام نہیں لے گا، کیونکہ اس نے غزہ میں جنگ بندی سمیت مطالبات پر زور دیا ہے۔

ایران کو اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی سے روکنے کے لیے امریکا اور یورپ نے کوششیں تیز کردیں۔

امریکا دمشق حملے میں ملوث نہیں، وائٹ ہاؤس

امریکا نے ایران کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دمشق حملے میں ملوث نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرائن جین پیئر نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا یہ تنازع پھیلے، ایران دمشق حملے کو تنازع بڑھانے یا امریکی تنصیبات پر حملے کے بہانے کے طورپر استعمال نہ کرے۔

امریکی وزیر خا رجہ انٹونی بلنکن نے 24 گھنٹے کے دوران ترک، چینی اور سعودی ہم منصبوں سے رابطے کیے۔

اس حوالے سے ترجمان محکمہ خا رجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

ادھر ممکنہ ایرانی رد عمل کے خدشے کے پیش نظر امریکا نے اسرائیل میں اپنے سفارتکاروں کی نقل وحرکت پرپابندی لگادی۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے دمشق میں اسرائیلی حملے کا جواب دیا تو وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوگا اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر اسرائیل پہنچ گئے۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ وہ دمشق حملے کے ممکنہ ایرانی رد عمل کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے عید پر کہا تھا کہ اسرائیل کو سزا ضرور ملنی چاہیئے اور ملے گی، شیطانی حکومت اسرائیل نے ایرانی سفارتخانے پر حملہ کرکے غلطی کی ہے۔

دمشق میں اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر سمیت7 ارکان شہید ہوئے تھے۔

امریکی وزیرخارجہ کا ترکیہ، چینی اور سعودی ہم منصب سے رابطہ

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی پر امریکی انتظامیہ متحرک ہوگئی۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے ترکیہ، چینی اور سعودی ہم منصب سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے، واشنگٹن کو خطے میں کشیدگی کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا جرمن، برطانوی اور آسٹریلوی ہم منصب سے رابطہ

ادھر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جرمن، برطانوی اور آسٹریلوی ہم منصب سے رابطہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ شام میں ایرانی سفارت خارنے پر حملے کا جوابی ردعمل جائز ہے، جب اسرائیل سفارتی اور بین الاقوامی قانون توڑتا ہے تو ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

جرمن وزیرخارجہ نے ایران سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔

برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون کا ایران کو انتباہ

دوسری طرف برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے ایران کوانتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشرق وسطی کو بڑے تنازع کی جانب نہ دھکیلے، فکرمند ہوں کہ یہ غلط اندازے آگ کو مزید بھڑکائیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ آج میں نے ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان پر واضح کر دیا کہ ایران کو مشرق وسطیٰ کو وسیع تر تنازعے کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیئے۔

ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا کہ مجھے غلط اندازوں کے بارے میں گہری تشویش ہے جس کی وجہ سے مزید تشدد ہو سکتا ہے، اس کے بجائے ایران کو کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں کو روکنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

Germany

United Kingdom

Australia

David Cameron

iran foreign minister

Hossein Amir Abdollahian

Iran Israel

Iran Israel War