Aaj News

منگل, مئ 28, 2024  
19 Dhul-Qadah 1445  

بلوچستان میں بارش کے بعد سیلاب کی تباہی، پانی گھروں اور گاڑیوں کو بہا لے گیا، کوئٹہ آفت زدہ قرار

بارش سے متاثرہ علاقوں میں رین اور اربن فلڈ ایمرجنسی نافذ
اپ ڈیٹ 15 اپريل 2024 02:10pm
فوٹو۔۔۔ اسکرین گریب
فوٹو۔۔۔ اسکرین گریب

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دوسرے روز بھی بارش ہوئی جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، چاغی میں بارش سے ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا اور پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں رین اور اربن فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ کوئٹہ شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔

صوبے میں برسات کے بعد مختلف علاقے سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں ہیں، چاغی میں مکانات کی دیواریں گرگئیں، جب کہ چالیس گھروں پر مشتمل علاقہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔

کوئٹہ میں دس گھنٹے سے مسلسل موسلا دھار بارش سے قمبرانی روڈ، غوث آباد سمیت دیگرعلاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔

پی ڈی ایم اے نے سریاب کچلاک ہزارہ ٹاؤن سیمت تین علاقوں میں ریسکیو کیمپ قائم کردیے ہیں، اور ڈیم کے خستہ پشتوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا گیا۔

ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق افسران اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں، متاثرہ اضلاع میں آج اور کل سرکاری، نجی اسکول بند رہیں گے۔

کوئٹہ شہر آفت زدہ قرار

پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کوئٹہ میں لگاتار موسلا دھار بارشوں کے بعد کوئٹہ شہر کو آفت زدہ قرار دے کر اربن فلڈ ایمرجنسی نافظ کردی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیرصدارت صوبے کے ڈویژنل کمشنرز اور پی ڈی ایم اے حکام کا آن لائن اجلاس ہوا۔

وزیراعلیٰ نے نکاسی آب نہ ہونے کی شکایات پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مشکل اور تکلیف سے نکالنا ہماری ذمے داری ہے، نالوں پر موجود انکروچمنٹ کو ختم کریں۔

چاغی میں تباہی

ضلع چاغی میں رات گے طوفانی بارشوں کے بعد متعدد گھروں میں سیلابی پانی داخل ہوا، جس سے کچے مکانات منہدم ہوگئے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

ضلع میں سیلابی ریلوں کے باعث گاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوب گئے۔

ابھی تک موصول اطلاعات کے مطابق کلی لشکراب کلی کوچال، کلی سردار دوست محمد حسنی ، براپ چاہ کے کئی گاؤں ، کلی ملک نظر سمالزئی، کلی سعید آباد مینگل، ، کلی حاجی صاحب خان ، کلی گل محمد ، کلی سردار یعقوب پیرکزی ، کلی حاجی سلطان علی خان ، کلی حاجی فاضل محمد ، دشت گوران ، کلی نواب ، کلی نثار آباد ، کلی ملک عبدالحد سمالانی ، کلی داد کریم سنجرانی ، لشکراب کا پورا علاقہ، پوستی ، زیارت بلانوش کے کئی مقامات ، لیویز چیک پوسٹ اور زرعی فارمز میں پانی کے ریلوں نے داخل ہوکر تباہی مچادی۔

اطلاعات کے مطابق کئی گاڑیاں بھی ریلوں میں بہہ گئیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ راستے بند ہونے کے باعث انتظامیہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ لوگ بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ سردی کی شدت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں وبائی امراض کے پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے، صوبائی حکومت ضلع میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کرے۔

بلوچستان

Met Office

Rain

PDMA