اسما عباس کی بشریٰ انصاری کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کرنے پر تنقید
پاکستان کی سینئر اداکارہ اسما عباس نے سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی اپنی بہن بشریٰ انصاری اور اداکار فیروز خان سے متعلق جھوٹی اور مبالغہ آمیز خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسما عباس نے بتایا کہ بشریٰ انصاری کے محبت بھرے اور دوستانہ جملے جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیے گئے تاکہ تنازع پیدا کیا جا سکے اور زیادہ کلکس حاصل کیے جائیں۔
انہوں نے وضاحت کی، ’حال ہی میں میری معصوم بہن بشریٰ انصاری نے کہا، ’میں نے فیروز خان کے ساتھ پہلی بار کام کیا۔ شروع میں وہ تھوڑے شرمیلے اور محتاط تھے، لیکن بعد میں ہمارے درمیان بہت اچھا تعلق قائم ہو گیا۔ اب وہ مجھے گلے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں، ”آپ بہت پیاری ہیں اور میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔“ یہ بالکل درست ہے، ہمارا تعلق واقعی محبت بھرا اور دوستانہ ہے۔‘
لیکن اسما عباس نے سخت الفاظ میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’میں نے کہیں پڑھا کہ لکھا جا رہا تھا کہ فیروز خان نے کہا کہ وہ بشریٰ سے محبت کرتے ہیں، ان کے بغیر نہیں رہ سکتے اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘
اسما عباس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، ’ان کے دماغ میں کس قدر شرارت ہے۔ یہ جھوٹی باتیں کیسے لکھ سکتے ہیں؟ انہیں اپنی سزا کا خوف نہیں؟ میرا خون کھول رہا ہے۔ یہ اتنا تکلیف دہ ہے کہ لوگ جو چاہیں لکھ دیتے ہیں۔‘
اسما عباس نے واضح کیا کہ بشریٰ انصاری نے صرف فیروز خان کے ساتھ کام کے دوران ایک دوستانہ اور خاندانی نوعیت کے رشتے کا ذکر کیا تھا، لیکن کچھ سوشل میڈیا صفحات نے اسے جھوٹے دعووں اور افواہوں میں بدل دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے جھوٹے دعوے نہ صرف شہرت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ایک خطرناک ذہنیت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جو صرف سنسنی خیزی اور مقبولیت کے لیے سچائی کو قربان کر دیتی ہے۔
اسما عباس نے آخر میں کہا، ’یہ سب دیکھ کر دل بہت دکھتا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ لوگ سچائی کے ساتھ معلومات شیئرکریں نہ کہ محض افواہوں کے پیچھے چلیں۔‘
یہ غلط معلومات خاص طور پر ٹک ٹاک پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئیں، جس سے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا پر اخلاقی معیار کی ضرورت دوبارہ زیر بحث آئی۔
















