پاکستان مخالف بیان پر ورون دھون کو شدید تنقید کا سامنا
بولی ووڈ کے معروف اداکار ورون دھون پاکستان کے حوالے سے دیا گیا ایک متنازع بیان کی وجہ سے ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔
بولی ووڈ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے موضوع پر بننے والی فلمیں اکثر تنازع کا باعث بنتی ہیں اور فنکاروں کے بیانات دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کو مزید بھڑکا دیتے ہیں۔
ورون دھون حال ہی میں اپنی آنے والی فلم ’بارڈر 2‘ کے ایک گانے کی لانچ تقریب میں شریک ہوئے جہاں ان کے ایک بیان نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
’بارڈر 2‘ ایک جنگی پس منظر پر مبنی فلم ہے جس میں ورون دھون کے ساتھ سنی دیول اور وکی کوشل بھی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کو 1997 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم ’بارڈر‘ کا سیکوئل قرار دیا جا رہا ہے اور اسے بھارت میں حب الوطنی کے جذبے سے جوڑا جا رہا ہے۔

تقریب کے دوران ورون دھون نے کہا کہ ایسی فلمیں نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ بھارت اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق بھارت امن اور محبت کا داعی ہے، لیکن اپنے ملک کے تحفظ کے لیے جواب دینا بھی جانتا ہے۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا جسے کئی حلقوں نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز قرار دیا۔
ورون دھون کے اس بیان کے بعد خاص طور پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر متعدد صارفین نے اداکار کے بیان کا مذاق اڑایا اور اسے ’فلمی ڈائیلاگ‘ قرار دیا۔
بعض صارفین نے تبصرہ کیا کہ بھارت صرف فلموں میں ہی بدلہ لیتا ہے، جبکہ کچھ نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں طنزیہ جملے کسے۔
ایک صارف نے لکھا، ”حقیقت کو بھول گئے ہو، سب کچھ فلموں میں ہی اچھا لگتا ہے۔“
دوسرے نے کہا، ”ہمیشہ پاکستان کے پیچھے پڑے رہتے ہو، کبھی اپنے بارے میں بھی سوچ لیا کرو۔ ویسے اگر اتنا ہی شوق ہے تو آ جاؤ، آزما کر دیکھ لو۔“
ایک اور تبصرے میں کہا گیا، ”بھارت ہر موقع پر پاکستان کو نشانہ بناتا ہے، چاہے وہ فلم ہی کیوں نہ ہو۔“


یاد رہے کہ مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد، جس میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے مار گرائے جانے کے دعوے سامنے آئے تھے، بھارت میں پاکستان مخالف فلموں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں حالیہ فلم ’دھرندھر‘ بھی شامل ہے۔
















