فرانسیسی خاتونِ اوّل کو مخنث کہنے والے 10 افراد کو سزا

فرانسیسی عدالتیں آن لائن ہراسگی اور جھوٹے الزامات کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہیں۔
شائع 06 جنوری 2026 11:04am

فرانس کی فرسٹ لیڈی بریژٹ ماکروں کے خلاف جھوٹی جنسی شناخت پھیلانے والے آن لائن ہراسانی کے 10 ملزمان کو پیرس کی عدالت نے منگل کو مجرم قرار دے دیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بریژٹ ماکروں کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے، جیسے کہ وہ ٹرانسجینڈر ہیں یا ان کے اور صدر ایمانوئیل ماکروں کے درمیان عمر کے فرق کو غلط طور پر ”غیر اخلاقی“ قرار دیا۔

رائٹرز کے مطابق عدالت نے مختلف مجرموں کو مختلف سزائیں سنائی ہیں۔ آٹھ مردوں اور دو عورتوں کو بریژٹ کی جنس اور نجی زندگی پر کیچڑ اچھالنے کا مجرم ٹھہرایا۔ انہوں نے صدر ایمینوئیل ماکروں اور ان کی بیوی کے 24 سالہ عمر کے فرق کو بھی ’پیڈوفیلیا‘ جیسے الزامات سے جوڑا۔ سزاؤں میں ایک ملزم کو چھ ماہ کی سخت قید، جبکہ دوسروں کو آٹھ ماہ تک معطل قید، جرمانے، سائبر ہراسانی کی تربیت اور پانچ کو مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی شامل ہے۔

یہ فیصلہ ماکروں جوڑے کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ وہ امریکا میں کینڈیس اوئنز کے خلاف افترا یعنی جھوٹے الزام اور ساکھ خراب کرنے کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں۔ کینڈیس اوئنز نے بھی بریژٹ ماکروں کے بارے میں غلط دعوے کیے تھے کہ وہ مرد ہیں۔ کچھ ملزمان نے اپنے تبصروں کو ’طنز‘ قرار دیا، مگر عدالت نے یہ دفاع مسترد کر دیا۔

55 سالہ آرٹ گیلری کے مالک اور مصنف برٹرینڈ شولرکو چھ ماہ معطل اور قید ہوئی ہے لیکن انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہ فرانسیسی معاشرے میں آزادیِ اظہار کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اب تو یہ حق ختم ہو چکا ہے۔‘ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں بریژٹ نے کہا کہ وہ ان حملوں کا مقابلہ اس لیے کر رہی ہیں تاکہ دوسروں، خاص طور پر نوعمر بچوں کو ہراسانی سے لڑنے کی ہمت ملے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور ان کی ٹیکس ویب سائٹ ہیک کر کے ان کی شناخت تبدیل کرنے تک پہنچ گئے، حالانکہ ان کا جنم سرٹیفکیٹ واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’والدین ہی بچے کی جنس کا اعلان کرتے ہیں، یہ کوئی معمولی دستاویز نہیں۔‘

یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرانسیسی عدالتیں آن لائن ہراسگی اور جھوٹے الزامات کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہیں، اور مشہور شخصیات بھی اس کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہیں۔

defamation case

social media

France

Emmanuel macron

First Lady

Cyber Bullying

Online Harassment

Brigitte Macron

gender false claims

court ruling