’ملیشیائی شہزادے سے کم عمری میں زبردستی شادی کرائی گئی‘، انڈونیشیائی ماڈل کا انکشاف
انڈونیشیائی نژاد امریکی ماڈل منوہارا اوڈیلیا نے برسوں بعد اپنی متنازع شادی سے متعلق خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ 2008 میں ملائیشیا کے شہزادے تنگکو محمد فخری پیٹرا کے ساتھ ہونے والی شادی نہ تو قانونی تھی اور نہ ہی ان کی مرضی سے ہوئی۔
منوہارا اوڈیلیا کے مطابق یہ ایک زبردستی کی شادی تھی، جو اس وقت کی گئی جب وہ صرف 16 سال کی نابالغ تھیں۔
اب 33 سالہ منوہارا نے انسٹاگرام پر جاری ایک تفصیلی بیان میں میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں شہزادے کی “سابقہ اہلیہ” قرار دینا بند کیا جائے، کیونکہ یہ اصطلاح اپنی رضا مندی سے بندھے قانونی ازدواجی رشتے کا تاثر دیتی ہےجب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کم عمری کی وجہ سے وہ قانونی اور ذہنی طور پر ہامی بھرنے کی اہل نہیں تھیں اور انہیں سخت نگرانی، تنہائی اور دباؤ میں رکھا گیا۔
بقول ان کے محل میں گزارا گیا ایک سال ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا، جہاں آزادی سلب تھی اور خاندان سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔
منوہارا نے کہا کہ میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بشمول گوگل اور ویکیپیڈیا کو ایسے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جو بچوں کی جبری شادی اور استحصال کی حقیقت کو درست طور پر بیان کریں، نہ کہ اسے ایک عام ازدواجی تعلق کے طور پر پیش کریں۔
انہوں نے اپنے بیان میں لکھا، ’میری نوعمری میں جو کچھ ہوا وہ نہ محبت کا رشتہ تھا، نہ رضامندی پر مبنی تعلق اور نہ ہی قانونی شادی۔ میں نے کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کیا۔ میں ایک نابالغ تھی اور مجھے انتخاب کی آزادی نہیں تھی۔‘
2008 میں یہ شادی ملائیشیا کی ریاست کیلانتان کے شاہی خاندان میں ہوئی۔ منوہارا کے مطابق شادی کے بعد ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور وہ مسلسل نگرانی میں رہیں۔ ماضی کے انٹرویوز میں وہ محل کے اندر پیش آنے والے جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات بھی عائد کر چکی ہیں۔
بالآخر 2009 میں، سنگاپور کے ایک ہوٹل میں شاہی دورے کے دوران وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے لیے ان کی والدہ، مقامی حکام اور امریکی سفارت خانے نے مدد فراہم کی، جس کے بعد وہ واپس انڈونیشیا پہنچ گئیں۔
منوہارا کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی کہانی اس لیے سامنے لا رہی ہیں تاکہ حقیقت کو درست تناظر میں بیان کیا جا سکے اور مستقبل میں کسی اور نابالغ کو ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
















