10 بیٹیوں کے بعد بیٹے کی پیدائش، والد کا دقیانوسی روایات ماننے سے انکار
بھارتی ریاست ہریانہ کی ایک 37 سالہ خاتون نے دس بیٹیوں کے بعد بیٹے کو جنم دیا ہے، جس نے ایک بار پھر ماں کی صحت کے خطرات اور بیٹوں کی پسند کے سلسلے میں سماجی بحث کو چھیڑدیا۔
اوچانا ہسپتال کے میٹریئٹی ہوم میں ہونے والی یہ ولادت ہائی رسک قرار دی گئی تھی، جس کے دوران ماں کو تین یونٹ خون کی ضرورت پڑی، مگر ڈاکٹرز کے مطابق خوش قسمتی سے، ماں اور نومولود دونوں صحت مند ہیں۔
بچے کے والدین کی شادی کو انیس سال ہوچکے ہیں، بچے کے والد 38 سالہ سنجے کمار کے مطابق انہیں اور ان کی بڑی بیٹیوں کو بیٹے کی خواہش تھی۔ سنجے نے مزید کہا کہ محدود آمدنی کے باوجود وہ اپنی تمام بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ بہت خوش ہیں۔
بیٹے کی آمد کی خوشی میں خاندان نے نومولود کا نام دل خوش رکھا، جس کا مطلب ہے ”خوش دل“۔ خاندان کی بڑی بیٹی سارہ 12ویں جماعت میں ہے، جبکہ باقی بیٹیاں امریتا، سوشیلا، کرن، دیویا، مننت، کرتیکا، امنیش، لکشمی اور ویشالی مختلف کلاسوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس کہانی نے خاص توجہ حاصل کی، خاص طور پر ایک ویڈیو کے بعد جس میں والد اپنی دس بیٹیوں کے نام یاد کرنے میں مشکل محسوس کر رہے تھے۔
والد نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی طرح کے روایتی سماجی دباؤ کی حمایت نہیں کرتے اور آج کی لڑکیاں ہر میدان میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
یہ واقعہ ہریانہ میں جاری صنفی تناسب کے مسئلے کو بھی دوبارہ سامنے لے آیا ہے۔ 2025 میں ریاست میں ہر 1,000 مردوں کے مقابلے میں 923 خواتین ہیں، جو قومی اوسط سے کم ہے۔
















