’آٹو فوکس‘عینک: کمزور بینائی والے افراد کی بڑی مشکل حل

یہ ٹیکنالوجی روایتی چشموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آرام دہ ہے۔
اپ ڈیٹ 07 جنوری 2026 03:03pm

فن لینڈ کی ایک جدید آئی ویئر کمپنی آئی ایکس آئی ایسی اسمارٹ عینک متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جو انسان کی آنکھوں کی ضرورت کے مطابق خود بخود فوکس تبدیل کر سکتی ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ عینک ظاہری طور پر عام چشمے جیسی ہے، لیکن اندر موجود جدید ٹیکنالوجی اسے روایتی بائی فوکل اور ویری فوکل عینک سے کہیں زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

ان اسمارٹ چشموں میں آئی ٹریکنگ سینسرز اور لیکویڈ کرسٹل لینسز استعمال کیے گئے ہیں، جو پلک جھپکتے ہی لینس کا پاور تبدیل کر دیتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی روایتی بائی فوکل اور ویری فوکل چشموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور آرام دہ بصری تجربہ فراہم کرتی ہے۔

روایتی بائی فوکل لینس، جن کی ایجاد 18ویں صدی میں بینجمن فرینکلن سے منسوب کی جاتی ہے، دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک دور کی نظر کے لیے اور دوسرا قریب دیکھنے کے لیے۔

بعد ازاں 1960 کی دہائی میں ویری فوکل لینس متعارف ہوئے، جن میں دونوں حصوں کے درمیان بتدریج تبدیلی ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود صارف کو درست زاویے سے دیکھنے کی مشق کرنا پڑتی ہے اور کناروں پر دھندلا پن محسوس ہوتا ہے۔

آئی ایکس آئی کے چیف ایگزیکٹو نیکو ایڈن کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ویری فوکل لینس دراصل تین مختلف پاورز کو ایک لینس میں ملانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے بصری بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔


ایڈن نے وضاحت کی، ’ہم نے فکسڈ فوکس ایریاز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ زیادہ تر وقت لینس مکمل طور پر دور کی نظر کے لیے ہوتا ہے، اور جب پڑھنے کی ضرورت ہو تو لینس خود بخود تبدیل ہو جاتا ہے۔‘

آئی آٰیکس آئی کے چشموں میں قریب دیکھنے کے لیے ایک بڑا اور بہتر مقام پر رکھا گیا فوکس ایریا ہوتا ہے، جو صارف کے آنکھوں کے ٹیسٹ کے مطابق سیٹ کیا جاتا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ جب قریب دیکھنے کی ضرورت نہ ہو تو یہ ایریا غائب ہو جاتا ہے اور پورا لینس دور کی نظر کے لیے دستیاب رہتا ہے۔

کمپنی کے مطابق، ان چشموں کا وزن محض 22 گرام ہے اور یہ عام چشموں جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں۔ بیٹری اور الیکٹرانکس فریم میں اس طرح چھپائے گئے ہیں کہ دیکھنے والا فرق محسوس نہیں کر پاتا۔ البتہ، انہیں روزانہ چارج کرنا ہوگا، جس کے لیے مقناطیسی چارجنگ پورٹ فریم کے بازو میں نصب ہے۔

اگرچہ معمولی بصری بگاڑ ممکن ہے، مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ وقت تک نظر نہیں آتا۔ کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں چشمے خود بخود سیف موڈ میں چلے جاتے ہیں اور عام دور کی نظر والے لینس کی طرح کام کرنے لگتے ہیں، جس سے صارف کو فوری نقصان کا خطرہ نہیں رہتا۔

یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر آئن مرے کے مطابق یہ تصور سائنسی طور پر بالکل قابلِ عمل ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کا استعمال محدود اور کسی حد تک نیا تجربہ سمجھا جائے گا۔ کم روشنی اور میدانِ نظر کی وسعت جیسے سوالات پر مزید تحقیق درکار ہے۔

آئی ایکس آئی کے چشمے فن لینڈ میں تیار کیے جائیں گے اور سب سے پہلے یورپ میں لانچ ہوں گے، بعد ازاں امریکا میں ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد فروخت کا آغاز ہوگا۔ ابتدا میں صرف دو یا تین ڈیزائن مختلف چوڑائیوں میں دستیاب ہوں گے۔

نیکو ایڈن کے مطابق، ’ویری فوکل لینس کے بعد بصارت کی دنیا میں کوئی بڑی جدت نہیں آئی۔ ہم اسے بدلنا چاہتے ہیں۔ شاید چند سال بعد لوگ حیران ہوں کہ ہم کبھی فکسڈ فوکس چشمے کیسے پہنتے تھے۔‘

lenses

change

glasses

‘Autofocus’