گرین لینڈ کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کردیا

گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور عنصر بھی برف پگھلنے میں کردار ادا کر رہا ہے، ماہرین
شائع 08 جنوری 2026 11:41am

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی تہہ تیزی سے پگھل رہی ہے اور یہ عمل مستقبل میں دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی موجودہ پگھلنے کی رفتار سمندر کی سطح میں اضافے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے، جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ کی برف کی تہہ کے بڑے حصے ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور اب کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث یہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ آئس شیٹ کے ایک بلند مقام پر کی گئی کھدائی کے نمونوں سے پتا چلا کہ برف گزشتہ 10 ہزار سالوں میں غائب ہو چکی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور عنصر بھی برف پگھلنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

اوٹاوا یونیورسٹی کے محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مطابق گرین لینڈ کی زیرِ زمین گہری اور ناہموار گرمی برف کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔

سائنسدانوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا، سیسمک ریڈنگ، کشش ثقل کی پیمائش اور کمپیوٹر سمیلیشنز کے ذریعے بنائے گئے 3D درجہ حرارت کے ماڈلز کا استعمال کیا۔

ان ماڈلز سے معلوم ہوا کہ برف کے نیچے کی بنیاد کچھ جگہوں پر دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ گرم ہے، جس کی وجہ سے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کا مطلب ہے کہ سمندر میں اضافی پانی شامل ہو رہا ہے، جو سمندری سطح میں اضافہ کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح میں اضافہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ساحلی شہروں پر محسوس ہوں گے۔

countries

ice melting

GREENLAND

scientist send warning