جرمنی کی فوج میں ہلچل، ایلیٹ یونٹ میں منشیات اور جنسی اسکینڈل نے جنرلز کو ہلا دیا

جنسی تشدد، انتہاپسندی، منشیات کے استعمال یا امتیازی سلوک کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، جرمن کمانڈر
شائع 15 جنوری 2026 10:04am

جرمنی کے اعلیٰ ترین فوجی افسر نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ فوج کے ایک خاص پیراٹروپ یونٹ میں مبینہ جنسی تشدد، دائیں بازو کی انتہاپسندی اور منشیات کے استعمال سے متعلق اسکینڈل نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد انہوں نے فوج میں قیادت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جرمن مسلح افواج کے کمانڈر جنرل کارسٹن بروئر نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلح افواج میں جنسی تشدد، انتہاپسندی، منشیات کے استعمال یا امتیازی سلوک کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

پارلیمانی دفاعی کمیٹی کے سامنے اس معاملے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد جنرل کارسٹن بروئر نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فوجی اہلکار جو اس نوعیت کے رویے کو قبول یا برداشت کرتے ہیں، وہ جرمن مسلح افواج میں افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے اہل نہیں ہو سکتے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب چھبیسویں پیراٹروپ رجمنٹ میں خدمات انجام دینے والی خواتین فوجیوں نے متعدد مبینہ بدسلوکی کے واقعات کی شکایات پارلیمانی کمشنر برائے مسلح افواج، جو فوجی محتسب بھی ہیں، کو رپورٹ کیں۔

مذکورہ رجمنٹ کے فرائض میں سوڈان سے جرمن شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کے انخلا میں مدد جیسے مشن بھی شامل رہے ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمن فوج پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ حکومت مسلح افواج کی تعداد بڑھانے کی کوشش کے تحت تمام 18 سالہ نوجوانوں کی رجسٹریشن کا آغاز کر رہی ہے۔

یہ اقدام یورپی نیٹو اتحادیوں پر امریکا کے اس مطالبے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے براعظم کے دفاع کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں۔

elite paratroop unit

abuse cases

shaken

German general