فرانس سے خریدی گئی جدید بیلہارا فریگیٹ یونان پہنچ گئی
فرانس سے خریدی گئی بیلہارا کلاس کی ایک مسلح فریگیٹ جمعرات کو یونان پہنچ گئی، جو یونانی بحریہ کو جدید بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ فریگیٹ چار نئے جنگی بحری جہازوں میں سے ایک ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یونان نے اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے کے سلسلے میں فرانس سے حاصل کی گئی بیلہارا کلاس کی ایک مسلح فریگیٹ وصول کر لی ہے، جو 15 جنوری کو یونانی حدود میں داخل ہوئی۔ یہ فریگیٹ ان چار نئے بحری جہازوں میں شامل ہے جنہیں یونان اپنی پرانی بحری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے حاصل کر رہا ہے۔
ایتھنز نے 2021 میں تقریباً 3 ارب یورو کے معاہدے کے تحت فرانس سے تین بیلہارا فریگیٹس خریدنے کا فیصلہ کیا تھا، جن کا مقصد یونانی بحریہ میں شامل ان پرانے جہازوں کی جگہ لینا ہے جو گزشتہ 30 برس سے زیادہ عرصے سے استعمال میں تھے۔ بعد ازاں 2025 میں یونان نے ایک اضافی فریگیٹ کا آرڈر بھی دیا۔
یونانی حکومت کے مطابق ملک 2036 تک اپنی مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے تقریباً 28 ارب یورو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں اپنے دیرینہ حریف ترکی کے ساتھ دفاعی توازن برقرار رکھنا ہے۔ یونان اس وقت اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 3 فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے، جو 2025 میں یورپی یونین کی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔
یورپ کے کئی ممالک روس اور یوکرین کی جنگ سمیت علاقائی کشیدگی کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے نیٹو اتحادیوں پر دفاعی بجٹ بڑھانے کے دباؤ کی بھی یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے حمایت کی ہے۔
فریگیٹ کی آمد کے موقع پر وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس، صدر کونسٹنٹینوس تسولو لاس اور وزیر دفاع نیکوس دینڈیاس نے جہاز پر سوار ہو کر اس کا معائنہ کیا، جب کہ فریگیٹ کو سلامینا نیول بیس تک مختلف بحری جہازوں نے ہمراہ کیا۔ ان میں تاریخی آرمڈ کروزر جارجیوس ایویروف بھی شامل تھا، جس نے عالمی جنگوں سمیت یونان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ قدیم یونانی دور کی علامت ایک دوبارہ تیار کردہ ٹرائریم کشتی بھی جلوس کا حصہ تھی۔












