کانجی: صحت کا خزانہ اور سردیوں کا سپر ٹانک

صحت مند زندگی کے لیے مہنگے مشروبات نہیں بلکہ روایتی اور سادہ غذائیں بھی کافی ہوتی ہیں۔
شائع 23 جنوری 2026 01:23pm

سردیوں کے موسم میں قوت مدافعت بڑھانے کے لیے دیسی اور قدرتی مشروبات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہی میں سے ایک قدیم اور مقبول مشروب کانجی ہے، جو نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ صحت کے بے شمار فوائد بھی رکھتا ہے۔

کانجی صدیوں سے بطور روایتی خمیر شدہ مشروب استعمال کی جا رہی ہے اور آج بھی ماہرینِ غذائیت اسے قدرتی پروبایوٹک قرار دیتے ہیں۔

کانجی عام طور پر گاجر، چقندر، سرسوں کے دانے، کالانمک، ہینگ اور پانی سے تیار کی جاتی ہے۔

ان اجزاء کو چند دن دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے، جہاں قدرتی طور پر خمیر ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہی عمل کانجی کو غذائیت سے بھرپور بناتا ہے اور اس میں فائدہ مند بیکٹیریا پیدا کرتا ہے، جو آنتوں اور نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ کانجی جسم سے فاضل اور زہریلے مادے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، جس سے مجموعی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ سردیوں میں اسے پینے سے جسم کو حرارت اور توانائی بھی ملتی ہے۔

کانجی کو کیسے بنایا اور محفوظ کیا جائے؟

کانجی تیار کرنے کے لیے سب سے پہلے گاجر اور چقندر کو اچھی طرح دھو کر چھیل لیں اور لمبے ٹکروں میں تقریبا انگلی کے سائز کے برابر کاٹ لیں۔

ایک شیشے یا مٹی کے برتن مین ان کٹی ہوئی گاجروں، چقندر اور پانی کو ڈال دیں۔

اب اس میں پسی ہوئی سرسوں کے دانے، کالا نمک، سادہ نمک، لال مرچ اور ہینگ بھی ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کر لیں۔

جار کا منہ کسی صاف کپڑے سے ڈھانپ کر اسے پتلی رسی یا ربڑ بینڈ سے باندھ لیں۔

جار کو 3 سے 4 دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیں اور چمچ سے روزانہ ہلاتے رہیں تاکہ اس کا ذائقہ برقرار رہے۔

جب پانی کارنگ گہرا میرون ہوجائے اور ہلکی کھٹی خوشبو آنے لگے تو کانجی تیار ہے ۔

کانجی کو زیادہ خمیرزدہ ہونے سے بچانے کے لیے فریج میں رکھیں۔

زیادہ تیز ذائقہ چاہیے ہو تو مزید ایک دن دھوپ میں رکھ سکتے ہیں۔

اگر گاجر زیادہ نرم ہو جائیں تو انہیں نکال کر چٹنی یا سلاد میں استعمال کریں۔

روزانہ نہار منہ یا دوپہر کے کھانے سے پہلے پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

اگر تیزابیت کا مسئلہ ہو تو اسے کھانے کے بعد پئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانجی کو اعتدال میں اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف ہاضمہ بہتر بناتی ہے بلکہ جسمانی توانائی، مدافعتی نظام اور مجموعی صحت کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

قدرتی اجزاء سے تیار ہونے والا یہ دیسی مشروب آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے مہنگے مشروبات نہیں بلکہ روایتی اور سادہ غذائیں بھی کافی ہوتی ہیں۔