ناسا کے مطابق حقیقی سائنس پر مبنی فلمیں کون سی ہیں؟
امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں وہ سائنس فکشن فلمیں شامل ہیں جو سائنسی لحاظ سے سب سے زیادہ درست اور حقیقت کے قریب ہیں۔
ان فلموں میں نہ صرف تخیل ہے بلکہ سائنس، تحقیق اور حقیقت پسندانہ سوچ کو بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ فہرست سینما کی تقریباً ایک صدی پر محیط فلموں کے تجزیے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
ناسا کے مطابق، سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ فلمیں مستقبل کی ہر بات بالکل صحیح بتائیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ سائنسدان کس طرح مسائل حل کرتے ہیں، تجربے کرتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں۔
Gattaca (1997)

یہ فلم ایک ایسے مستقبل کی کہانی ہے جہاں لوگ صرف اپنے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھے جاتے ہیں۔ اچھے جینیات والے لوگوں کو موقع ملتا ہے اور باقی لوگوں کو محدود کام کرنے پڑتے ہیں۔ مرکزی کردار خلا میں جانے کے اپنے خواب کے لیے اپنی شناخت بدل دیتا ہے اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک قتل کے معمہ کو حل کرتا ہے
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی فرضی ہے لیکن ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ جینیاتی امتیاز اور انسانی صلاحیتوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں دکھاتی ہے۔
Contact (1997)

یہ فلم ایک خاتون فلکیات کی ماہر کی کہانی بیان کرتی ہے جو خلا سے موصول ہونے والا ایک پراسرار سگنل دریافت کرتی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سائنسدان اس سگنل کی تشریح کے لیے تحقیق کرتے ہیں، شواہد جمع کرتے ہیں اور سائنسی تجزیہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ فلم خلائی زندگی کی تلاش، سائنسی شبہات، اور بڑے خلائی منصوبوں کے لیے درکار سیاسی اور مالی چیلنجز کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔
ناسا کے مطابق یہ فلم دکھاتی ہے کہ خلائی تحقیق میں سوال کرنا، شواہد جمع کرنا اور سائنسی تجزیہ کرنا کتنا اہم ہے۔
Metropolis (1927)

یہ ایک پرانی جرمن فکشن فلم ہے جو مستقبل کے ایک شہر کی کہانی دکھاتی ہے۔ جہاں معاشرہ سخت طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ایک طرف شاندار زندگی گزارنے والے امیر طبقے کے لوگ ہیں اور دوسری طرف سخت محنت کرنے والے کمزور مزدور طبقے کے لوگ۔
ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ انسانی محنت کو مشینوں کے ذریعے بدلنے کے اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کو حقیقت کے قریب دکھاتی ہے۔
The Day the Earth Stood Still (1951)

یہ فلم ایک خلائی مخلوق کی کہانی ہے جو زمین پر اترتی ہے، ساتھ میں ایک روبوٹ گورٹ بھی ہوتا ہے۔ یہ مخلوق انسانیت کو خبردار کرتی ہے کہ تشدد اور ہتھیار چھوڑ دو، ورنہ نتائج خطرناک ہوں گے۔
ناسا کے مطابق یہ فلم دکھاتی ہے کہ خلائی مخلوق کو حملہ آور نہیں بلکہ عقل مند اور منطقی سمجھا جا سکتا ہے۔
Woman in the Moon (1929)

یہ فلم بھی جرمن سائنس فکشن کی کلاسک مثال ہے، جو نہ صرف ایک رومانوی کہانی پیش کرتی ہے بلکہ سائنسی موضوعات جیسے صفر کشش ثقل، راکٹ کی تیاری، اور مشن سے قبل کی الٹی گنتی کو بھی دکھاتی ہے۔
فلم ’وومن ان دی مون‘ 1969 میں انسان کے چاند پر اترنے سے تقریباً پچاس سال پہلے بنائی گئی تھی، جو اس کے سائنسی وژن کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس خاموش فلم میں دکھایا گیا ہے کہ چاند پر جانے کے ابتدائی تجربات کیسے کیے جا سکتے ہیں اور اس میں خلائی سفر کی بنیادی مشکلات جیسے کشش ثقل کی کمی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ناسا نے اس فلم کو سراہا کیونکہ یہ خلائی سفر کے ابتدائی سائنسی تصورات کو آسان انداز میں دکھاتی ہے۔
The Thing from Another World (1951)

یہ فلم شمالی قطب کے ایک دور افتادہ اڈے پر سائنسدانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی دکھاتی ہے ، جبن کا سامنا ایک خطرناک پودوں نما خلائی مخلوق سے ہوتا ہے۔
ناسا کے مطابق فلم میں مسائل کے حل کے لیے جادو یا فرضی چیزوں کے بجائے سائنسی سوچ اور تجربات استعمال کیے گئے۔
Jurassic Park (1993)

فلم ’جراسک پارک‘ (1993) ایک تھیم پارک کی کہانی بیان کرتی ہے جس میں کلون کیے گئے ڈایناسورز ایک سکیورٹی خرابی کے بعد قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ڈایناسورز کو ڈی این اے کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کا خیال افسانوی ہے، ناسا نے فلم میں جینیات، ڈی این اے کی وضاحت کو سائنسی اعتبار سے متاثر کن قرار دیا ہے۔ فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹی سی غلطی یا معمولی تبدیلی پیچیدہ نظام میں بڑے اور تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
ناسا کے مطابق یہ فلمیں اس بات کی مثال ہیں کہ سائنس فکشن صرف خواب اور تخیل نہیں بلکہ سائنسی سوچ، تحقیق اور حقیقت پسندانہ حل پیش کرنے کا بھی ذریعہ ہو سکتی ہیں۔
















