طالبان رجیم کو جھٹکا، آسٹریلیا کا افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان
طالبان حکومت کی پالیسیوں کے باعث افغانستان کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ اسی پس منظر میں آسٹریلیا نے کینبرا میں قائم افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے محکمۂ خارجہ و تجارتی امور نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی سفارتکار، اعزازی قونصل یا نمائندے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو افغان عوام کا جائز نمائندہ نہیں مانتی۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، خواتین پر عائد پابندیاں اور اختلافِ رائے کو دبانے کی پالیسیاں آسٹریلیا کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہی عوامل افغان سفارتخانہ بند کرنے کے فیصلے کی بنیاد بنے ہیں۔
دوسری جانب ریفیوجی کونسل آف آسٹریلیا نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں شہری اس حد تک خوف کا شکار ہیں کہ وہ طالبان کے زیر انتظام اداروں سے بنیادی سرکاری دستاویزات حاصل کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں، جو انسانی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان سفارتی مشنز کی بندش محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ طالبان حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی عدم اعتماد کی علامت ہے۔
طالبان کی پالیسیوں کے باعث افغانستان کو سفارتی، معاشی اور انسانی سطح پر مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ بیرونِ ملک افغان شہریوں کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔












