معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا

'چار نقاب پوش افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں قتل کر دیا'۔
شائع 04 فروری 2026 08:59am

لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے نمایاں بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا ہے۔ سیف الاسلام قذافی کے وکیل خالد الزیدی اور ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے منگل کے روز فیس بک پر الگ الگ پیغامات میں ان کی موت کا اعلان کیا، تاہم ابتدائی طور پر واقعے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

لیبیائی خبر رساں ادارے ’فواصل میڈیا‘ کے مطابق عبداللہ عثمان نے بتایا کہ مسلح افراد نے سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں قتل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع قصبے زنتان میں پیش آیا، جہاں وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقیم تھے۔

بعد ازاں قذافی کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ”چار نقاب پوش افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں ایک بزدلانہ اور غداری پر مبنی حملے میں قتل کر دیا۔“

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سیف الاسلام قذافی نے حملہ آوروں کے ساتھ مزاحمت کی اور اس دوران حملہ آوروں نے گھر میں نصب سیکیورٹی کیمرے بند کر دیے تاکہ اپنے جرائم کے شواہد مٹائے جا سکیں۔

واقعے کے بعد طرابلس میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ادارے ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں قتل کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سیف الاسلام قذافی نے کبھی لیبیا میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن سن 2000 سے 2011 تک انہیں اپنے والد کا قریبی ترین ساتھی اور ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔

معمر قذافی کی دہائیوں پر محیط حکومت کا خاتمہ 2011 میں اس وقت ہوا جب وہ لیبیا کی باغی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔

جون 1972 میں طرابلس میں پیدا ہونے والے سیف الاسلام قذافی اپنے والد کے دوسرے بیٹے تھے۔

مغربی تعلیم یافتہ اور شستہ گفتگو کے حامل سیف الاسلام نے ایک عرصے تک اپنے والد کی سخت گیر حکومت کا نسبتاً نرم اور اصلاح پسند چہرہ پیش کیا۔

سن 2000 کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے لیبیا اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان مذاکرات میں پیش پیش رہے جن کے تحت لیبیا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے دستبرداری اختیار کی اور اسکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی میں 1988 میں پین ایم پرواز 103 کی تباہی میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

سیف الاسلام قذافی نے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ روانی سے انگریزی بولتے تھے۔

وہ خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے اور آئین، انسانی حقوق کے احترام اور سول سوسائٹی کے کردار پر زور دیتے تھے۔

ان کا تعلیمی مقالہ بھی عالمی نظام میں اصلاحات کے لیے سول سوسائٹی کے کردار پر مبنی تھا۔

تاہم 2011 میں جب معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت شروع ہوئی تو سیف الاسلام نے خاندان اور قبیلے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اس دوران وہ حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے اہم منصوبہ ساز بن کر سامنے آئے اور انہوں نے مخالفین کو سختی سے نشانہ بنایا۔

اس وقت ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم لیبیا میں ہی لڑیں گے اور لیبیا میں ہی مریں گے، اور خبردار کیا تھا کہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی اور حکومت آخری گولی تک لڑے گی۔

انہیں اپنے والد کے دور میں مخالفین پر تشدد اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

فروری 2011 میں انہیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور ان پر سفر پر پابندی عائد کر دی گئی۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی 2011 میں مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں انہیں مطلوب قرار دیا۔

طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد سیف الاسلام نے پڑوسی ملک نائجر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں ایک صحرا میں گرفتار کر کے زنتان منتقل کر دیا گیا۔

طویل قانونی کشمکش کے بعد 2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ 2017 میں عام معافی کے تحت ان کی رہائی عمل میں آئی، جس کے بعد وہ ممکنہ حملوں کے خوف سے زنتان میں خفیہ طور پر زندگی گزارتے رہے۔

نومبر 2021 میں سیف الاسلام قذافی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا، جس پر لیبیا کے مختلف سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

ان کی امیدواری کو 2015 کی سزا کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا اور بعد ازاں انتخابی عمل اختلافات کا شکار ہو کر تعطل کا شکار ہو گیا، جس سے لیبیا ایک بار پھر سیاسی جمود میں داخل ہو گیا۔

سیف الاسلام قذافی کے قتل نے ایک بار پھر لیبیا میں سیکیورٹی صورتحال، سیاسی عدم استحکام اور مفاہمتی عمل کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔