پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کروڑوں کی چوری

ابتدائی تخمینے میں چوری ہونے والے سامان کی مالیت تقریباً چار کروڑ پچاس لاکھ روپے بنتی ہے۔
شائع 09 فروری 2026 11:17am

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چوری کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں اسپتال کے سینٹرل اسٹور سے ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد مالیت کا قیمتی میڈیکل سامان چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ازخود تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے بعد چوری میں ملوث چار ملازمین کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی تخمینے میں چوری ہونے والے سامان کی مالیت تقریباً چار کروڑ پچاس لاکھ روپے بنتی ہے، تاہم حتمی رقم مکمل آڈٹ اور تفصیلی انکوائری کے بعد طے کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسروقہ سامان میں زیادہ تر وہ میڈیکل اشیا شامل تھیں جو سرکاری طور پر خرید کر مریضوں کو علاج کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سامان کے ڈبوں کی سیل کھول کر اندر سے قیمتی اشیا نکالیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ سامان پشاور کے مختلف علاقوں میں فروخت کیے جانے کا امکان ہے، جس کی مزید چھان بین جاری ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مرکزی ملزم ابوبکر، جو سفید ڈھیری کا رہائشی ہے، دیگر ملزمان کے ساتھ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مین اسٹور میں تعینات چاروں ملازمین کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا، جبکہ ترجمان پی آئی سی رفعت انجم کے مطابق گرفتار ملازمین کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر پی آئی سی قاضی سعداللہ کی رپورٹ پر حیات آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ شفاف تحقیقات پر یقین رکھتی ہے اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو بے نقاب کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترجمان پی آئی سی نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے باوجود اسپتال میں مریضوں کا علاج اور آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ مسروقہ سامان کی فروخت سے متعلق پہلوؤں پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔