راج پال یادَو پر کروڑوں کا قرضہ، جیل بھیج دیا گیا

اداکار قرض کی واپسی نہ کرسکے، کروڑوں کے چیک باؤنس ہوگئے۔
شائع 09 فروری 2026 12:29pm

بھارتی فلم انڈسٹری بولی وڈ کے معروف کامیڈین اور اداکار راج پال یادیو کو دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک برسوں پرانے مالی تنازعے کے سلسلے میں سامنے آیا ہے، جو ان کی 2010 میں ڈائریکٹ کی گئی فلم اتا پتا لاپتا کے سلسلے میں لیے گئے قرض سے متعلق ہے۔

رپورٹس کے مطابق، راج پال یادیو نے دہلی کے مورالی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے فلم کی پروڈکشن کے لیے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد قرض کی واپسی ممکن نہ ہو سکی، جس پر قرض دہندہ نے عدالت سے رجوع کیا۔

اپریل 2018 میں، ایک مجسٹریٹ عدالت نے راج پال یادیو اور ان کی اہلیہ رادھا کو نگیوشیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی شق 138 کے تحت مجرم قرار دیا، جو چیک باؤنس کے جرائم سے متعلق ہے۔ اس کے بعد کیس میں اپیلوں اور طویل قانونی کارروائیوں کے باعث کئی سال تک کارروائی معطل رہی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راج پال یادیو نے جمعرات کی دوپہر عدالت کے حکم کے تحت خود کو تہاڑ جیل کے حکام کے حوالے کردیا۔ اس سے قبل دہلی ہائیکورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اداکار نے عدالت سے سزا معطلی کے تحت خود سپردگی کی مدت میں مزید ایک ہفتے کی توسیع مانگی تھی، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ انہیں پہلے ہی متعدد مواقع دیے جا چکے ہیں اور اب مزید نرمی ممکن نہیں۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، قرض کی اصل رقم سمیت سود اور جرمانے کے ساتھ واجبات تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ راج پال نے ابتدائی طور پر 8 کروڑ روپے واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جو بعد میں 7 کروڑ روپے پر طے پائی۔ تاہم ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے 7 چیک باؤنس ہونے پر فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔

عدالتی ماہرین کے مطابق، نگیوشیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت عدالت کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر قید بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت راج پال یادیو کی رہائی واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہے۔