ایپسٹین اسکینڈل کے بعد برطانیہ میں ہلچل: پہلی مسلمان وزیراعظم کے لیے سٹّے لگنا شروع

برطانوی سیاست کا یہ اصول رہا ہے کہ جب کسی لیڈر کی سیاسی بصیرت پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو اس کا اقتدار کمزور پڑنے لگتا ہے
اپ ڈیٹ 09 فروری 2026 02:07pm

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس وقت اپنی کارکردگی یا کسی ذاتی غلطی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں جس نے ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اسٹارمر کا ایک متنازع فیصلہ ان سے وزارت عظمیٰ چھن جانے کا باعث بن سکتا ہے اور ان کی جگہ برطانوی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون مسلمان کو وزیراعظم بنائے جانے کا امکان ہے۔

یہ معاملہ معروف کاروباری شخصیت اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے دوبارہ منظر عام پر آنے اور اسٹارمر کی جانب سے پیٹر مینڈیلسن کو لیبر پارٹی کے پاور اسٹرکچر میں واپس لانے سے جڑا ہے۔ خیال رہے کہ مینڈیلسن کو ایپسٹین کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

اگرچہ اسٹارمر یا مینڈیلسن پر کسی براہ راست غلط کام کا الزام نہیں ہے، لیکن سیاست میں عوامی تاثر اور وقت کی نزاکت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اسٹارمر کے سیاسی فیصلے کی یہ چوک ان کی رخصتی کا سبب بن سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں ملک کو پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم مل سکتی ہے؟

پیٹر مینڈیلسن لیبر پارٹی کے پرانے اور بااثر کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کا نام ایلیٹ نیٹ ورکس اور بااثر شخصیات کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔

ایپسٹین طوفان کے دوبارہ اٹھنے سے برطانوی عوام میں اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے، اور ایسے میں اسٹارمر کا مینڈیلسن پر بھروسہ کرنا بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ کو ایک بڑی سیاسی غلطی لگ رہا ہے۔

لیبر پارٹی کے اندر یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم عوامی جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں؟

برطانوی سیاست کا یہ اصول رہا ہے کہ جب کسی لیڈر کی سیاسی بصیرت پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو اس کا اقتدار کمزور پڑنے لگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب اسٹارمر کی جانشینی کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور شروع ہو گیا ہے۔

اگر کیئر اسٹارمر کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو ممکنہ امیدواروں میں انجیلا رینر اور ویس اسٹریٹنگ کے ساتھ ساتھ شبانہ محمود کا نام بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، سٹے بازی کی مارکیٹوں اور سیاسی پیش گوئی کرنے والے اداروں نے شبانہ محمود کو ایک سنجیدہ امیدوار کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے، جہاں انہیں دوسرے درجے کے مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

شبانہ محمود برمنگھم سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس وقت برطانیہ کی وزیر داخلہ کے طور پر ایک انتہائی مشکل وزارت سنبھال رہی ہیں۔

شبانہ ایک سنجیدہ، محنتی اور خاموشی سے کام کرنے والی سیاست دان سمجھی جاتی ہیں جو اپنی سیاست کو کسی خاص شناخت یا مذہب سے نہیں جوڑتیں۔

شبانہ محمود کی خاص بات یہ ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے تمام دھڑوں کے لیے قابل قبول سمجھی جاتی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی قسم کے تنازع یا اسکینڈل سے پاک رہی ہیں۔

اگر حالات ان کے حق میں بنتے ہیں اور وہ وزیراعظم بنتی ہیں تو یہ برطانوی تاریخ کا ایک بڑا سنگ میل ہوگا کیونکہ وہ برطانیہ کی پہلی مسلمان وزیراعظم ہوں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ملک نے کبھی مذہب کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی ملک میں ایک دہائی کے اندر ہندو وزیراعظم رشی سنک کے بعد ایک مسلمان وزیراعظم کے آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم یہ سب ابھی ایک قانونی اور سیاسی مفروضہ ہے کیونکہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی کرسی پر موجود ہیں اور برطانوی سیاست میں پل بھر میں حالات بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔