جین زی انقلاب کے بعد بنگلہ دیش میں پہلے عام انتخابات، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹے کا مقابلہ متوقع

ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔
اپ ڈیٹ 12 فروری 2026 10:03am

بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد آج پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں اور ملک بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔ یہ الیکشن سیاسی طور پر نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد عوام پہلی بار نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے 50 خصوصی نشستیں الگ سے مختص ہیں۔

بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔

ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔

ملک میں اس وقت 51 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ جن کے 1732 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ 249 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ سیاسی منظرنامہ خاصا متحرک دکھائی دے رہا ہے اور مختلف اتحاد ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو جین زی انقلاب سے جڑے نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل ہے، جو حالیہ سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرنے والی نسل سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہدیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں ایک اور بڑا انتخابی اتحاد قائم ہے، جو حکومت سازی کے لیے بھرپور مہم چلا رہا ہے۔ یہ اتحاد خود کو ملک میں استحکام اور سیاسی توازن کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جین زی انقلاب کے وقت حسینہ واجد ملک کی وزیراعظم تھیں جن کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔

عوامی لیگ پر عائد پابندی نے انتخابی مقابلے کی نوعیت کو بدل دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات بنگلا دیش کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

جین زی انقلاب کے بعد نوجوان ووٹرز کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ نئی قیادت سے شفاف طرز حکمرانی اور معاشی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔

پولنگ کا عمل جاری ہے اور نتائج آنے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔