وفاقی حکومت کا عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا: ذرائع
شائع 14 فروری 2026 10:11pm

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس کی سفارش کی روشنی میں اسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے، ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ تحریکِ انصاف کو بے بنیاد پروپیگنڈے یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل پینل تشکیل دے دیا ہے جو اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کرے گا۔

ذرائع کے مطابق پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔ اسی میڈیکل بورڈ کی سفارش کی روشنی میں عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے بھی آج عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کروانے کی تصدیق کی تھی۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ تقریباً 20 منٹ بات چیت ہوئی۔ بچوں نے بتایا کہ عمران خان طویل عرصے بعد اُن سے بات چیت کر کے بے حد خوشی محسوس کر رہے تھے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اور اطراف میں اپوزیشن اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ اسمبلی کا احتجاج گزشتہ رات سے جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنماؤں نے عمران خان کو اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور تین نامزد معالجین کی موجودگی میں معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ہی ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے اور جب تک یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔

جس کے بعد ذرائع کی جانب سے حکومتی نمائندوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان رابطے کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایک نمائندے نے تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ کیا اور وزیراعظم سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی نمائندوں نے پارٹی قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ طبی معائنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔