پنجاب میں 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم قرار دینے کا مسودہ تیار

والدین، نکاح رجسٹرار اور بالغ شریکِ حیات کیلئے قید و جرمانے کی سزائیں تجویز
اپ ڈیٹ 21 فروری 2026 03:37pm

پنجاب میں کم عمری کی شادی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت نے نیا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس تیار کر لیا ہے جسے پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے متن کے مطابق 18 سال سے کم عمر کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی شادی کو باقاعدہ جرم قرار دیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مجوزہ قانون کے تحت لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ اگر کوئی نکاح رجسٹرار کم عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح رجسٹر کرتا ہے تو اسے ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی شخص کم عمر لڑکی سے نکاح کرتا ہے تو اسے کم از کم دو سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

آرڈیننس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد کم عمر بچے یا بچی کے ساتھ رہائش رکھنا یا ازدواجی تعلق قائم کرنا چائلڈ ابیوز کے زمرے میں آئے گا۔ اس جرم پر پانچ سے سات سال قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

مزید برآں، کم عمر بچوں کو شادی کی غرض سے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور کیا جائے گا جس پر بھی پانچ سے سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

قانون کے مطابق سرپرست یا والدین اگر کم عمری کی شادی کرانے میں ملوث پائے گئے تو انہیں دو سے تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی سے متعلق تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلائے جائیں گے اور عدالت کو شادی روکنے کے لیے فوری حکم امتناع جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مزید یہ کہ اس قانون کے تحت درج تمام جرائم ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہوں گے، یعنی فریقین کے درمیان سمجھوتے کی بنیاد پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ عدالت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مقدمات کا فیصلہ 90 دن کے اندر کرے۔

نئے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد 1929 کا پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اس قانون سازی کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ اور کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے کا مؤثر خاتمہ ہے۔ تاہم آرڈیننس کی حتمی منظوری اور نفاذ کا فیصلہ پنجاب اسمبلی میں بحث اور منظوری کے بعد ہوگا۔