کولمبو کا پریما داسا اسٹیڈیم، اسپنرز کی جنت
سری لنکا کے دارالحکومت میں قائم آر پریما داسا اسٹیڈیم کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد کنڈیشنز کے باعث خاص پہچان رکھتا ہے۔ 1986 میں تعمیر ہونے والے اس اسٹیڈیم کو مقامی طور پر کیتھراما اسٹیڈیم بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 35 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والا یہ میدان ورلڈ کپ اور ایشیا کپ سمیت کئی بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے۔
پریما داسا اسٹیڈیم کی وکٹ عموماً سست اور کم اچھال والی سمجھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں اسپن بولرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔ میچ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، پچ مزید خشک اور سست ہوتی جاتی ہے اور گیند بلے پر آسانی سے نہیں آتی۔ اسی لیے اکثر ٹیمیں یہاں اضافی اسپنر کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔ بڑی باؤنڈریز بھی بیٹرز کے لیے چیلنج بنتی ہیں اور اونچے شاٹس کھیلنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں یہاں درجنوں بین الاقوامی میچ کھیلے جا چکے ہیں۔ عمومی طور پر پہلی اننگز کا اوسط اسکور 150 سے 165 رنز کے درمیان رہتا ہے، تاہم بعض مواقع پر 180 سے زائد اسکور بھی بنے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مقابلوں میں بولرز، خاص طور پر اسپنرز، کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ ایک روزہ میچوں میں بھی یہ میدان کئی یادگار مقابلوں کا گواہ رہا ہے جہاں 300 سے زائد رنز بنے، لیکن کم اسکورنگ میچز بھی دیکھنے میں آئے۔
دن اور رات کے میچز میں فرق نمایاں رہتا ہے۔ شام کے وقت نمی بڑھنے سے گیند کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بیٹرز کو شاٹس کھیلنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ بارش بھی بعض اوقات میچ کے بہاؤ کو بدل دیتی ہے۔ ڈیو فیکٹر دوسری اننگز میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے، مگر سست وکٹ اکثر اس اثر کو محدود کر دیتی ہے۔
جہاں تک پاکستان کرکٹ ٹیم اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے باہمی ریکارڈ کا تعلق ہے تو دونوں ٹیمیں تینوں فارمیٹس میں 110 سے زائد مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کو معمولی برتری حاصل رہی ہے، جبکہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں پاکستان نے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھی پاکستان کا جیت کا تناسب بہتر رہا ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں نیوزی لینڈ نے دو طرفہ سیریز میں مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔
عالمی کپ مقابلوں میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت اور یادگار میچز کھیلے گئے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے زیادہ فتوحات حاصل کیں، جبکہ مجموعی طور پر حالیہ 15 سے 20 میچوں میں نیوزی لینڈ نے بھی نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں، جس سے مقابلہ مزید متوازن ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پریما داسا اسٹیڈیم میں کامیابی کے لیے حکمت عملی، صبر اور اسپن بولنگ بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں وہی ٹیم کامیاب ہوتی ہے جو سست وکٹ اور بڑی باؤنڈریز کو ذہن میں رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میدان میں ہونے والے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مقابلے اکثر سنسنی خیز اور غیر یقینی ثابت ہوتے ہیں، جہاں ایک اچھی اسپیل یا ذمہ دارانہ بیٹنگ پورے میچ کا نقشہ بدل سکتی ہے۔














