پولیس افسر سے میکسیکو کا منشیات کنگ بننے والا ’ایل مینچو‘ فوجی کارروائی کے دوران ہلاک
میکسیکو کی فوج نے ایک بڑے آپریشن میں طاقتور اور مطلوب منشیات فروش کارٹیل کے سربراہ ایل مینچو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق کارروائی مغربی ریاست جالسکو میں کی گئی تھی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایل مینچو بدنام زمانہ کارٹیل جالسکو نیوا جنریشن (سی جے این جی) کا سربراہ تھا، جسے میکسیکو کے سب سے زیادہ پرتشدد منشیات کارٹلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں بھی ملوث رہا اور امریکا بھر میں منشیات فروشی کے وسیع نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
حکام کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران ایک ٹن سے زائد منشیات بھی برآمد کی گئیں، جسے سیکیورٹی ادارے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ آپریشن انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور اسے مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایل مینچو کی گرفتاری پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میکسیکو میں منشیات کے سرغنہ کی ہلاکت ایک بڑی پیشرفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پیشرفت نہ صرف میکسیکو اور امریکا بلکہ لاطینی امریکا اور دنیا بھر کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے میکسیکو میں تشدد کے مناظر پر افسوس اور تشویش کا اظہار بھی کیا۔
1966 میں ریاست میچواکان میں پیدا ہونے والے اوسیگیرا نے غربت سے اٹھ کر منظم جرائم دنیا میں قدم رکھا تھا۔ 1980 کی دہائی میں غیر قانونی طور پر امریکا منتقل ہوئے، کیلیفورنیا میں ہیروئن کے کاروبار میں ملوث رہے، گرفتار ہوئے، سزا کاٹی اور بعد ازاں میکسیکو بدر کر دیے گئے تھے۔
واپسی پر مختصر عرصہ مقامی پولیس میں خدمات انجام دیں، پھر ملینیو کارٹیل کے ذریعے جرائم کی دنیا میں داخل ہو کر بالآخر 2009 سے 2011 کے دوران سی جے این جی کی بنیاد رکھی اور حریف گروہوں خصوصاً سینالوا کارٹیل کے خلاف خونریز جنگ چھیڑ دی۔
سی جے این جی نے بکتر بند گاڑیاں، بھاری ہتھیار اور راکٹ لانچر استعمال کیے اور طاقت کے اظہار کے لیے مسلح جلوسوں کی ویڈیوز جاری کیں۔ 2015 میں ان کے مسلح افراد نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو راکٹ سے مار گرایا تھا جبکہ چھ ہفتوں میں 24 پولیس اہلکار قتل کیے گئے تھے۔ 2020 میں میکسیکو سٹی کے پولیس چیف عمر گارشیا ہارفوچ پر حملے کا الزام بھی اسی گروہ پر عائد ہوا تھا۔
ایل مینچو طویل عرصے تک گرفتاری سے بچتے رہے، دیہی ٹھکانوں، وفادار محافظوں اور مبینہ بدعنوان روابط کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دیتے رہے۔ ان کی اہلیہ روزالندا گونزالیز والنسیا مالیاتی نیٹ ورک سے منسلک تھیں جبکہ ان کے بیٹے روبن اوسیگیرا عرف ’ایل مینچیتو‘ کو 2025 میں امریکا میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔













