وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا

ڈیزل 135 روپے فی لیٹر اور پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا ہے، شہباز شریف
شائع 10 اپريل 2026 11:24pm

وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل 135 روپے فی لیٹر اور پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کردیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے جب کہ پیٹرول کی قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 366 روپے ہوگئی ہے۔

جمعے کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وعدہ تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کا فوری فائدہ عوام کو منتقل کریں گے، قیامت خیزمہنگائی کا طوفان آیا ہے، وعدہ کیا تھا تیل کی قیمتیں کم ہوں گی تو فوری فائدہ عوام کو منتقل کریں گے، آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد مجھے یہ تجویز دی گئی کہ اس کا مکمل فائدہ عوام تک نہ پہنچایا جائے اور کچھ حصہ حکومتی اخراجات کے لیے مختص کیا جائے، میں نے اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ عوام نے جب مہنگائی کو برداشت کیا تو اب انہیں پورا ریلیف ملنا چاہیے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کے بعد آج رات 12 بجے کے بعد سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 135 روپے جب کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے کمی کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ کمی کے بعد ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 385 روپے جب کہ پیٹرول کی قیمت 366 روپے ہوجائے گی۔

اس سے قبل اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں تاریخ ساز موقع پر میں آپ سے بات کررہا ہوں، خلیج میں جنگ نہیں، امن کی بات ہورہی ہے، دونوں فریقین بات چیت پر تیار ہوگئے ہیں، بات چیت کے ذریعے معاملات طے کیے جارہے ہیں،

وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور امریکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، دونوں ملکوں نے میری تجویز کو قبول کیا، دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد تشریف لارہی ہے، امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے، اللہ نے پاکستان کو میزبانی کا شرف عطا فرمایا، یہ پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کے لیے لمحہ فخریہ ہے، پاکستان کی قیادت نے محتاط مگر اعتماد کے ساتھ عارضی جنگ بندی کروائی۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرتا ہوں، فیلڈ مارشل نے انتھک محنت سے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات کے لیے راضی کیا، جنگ بندی کے اعلان سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیرپا جنگ بندی کا ہے اور الجھے مسائل کو حل کرنے کا مرحلہ ہے، اسے انگریزی میں میک اور بریک کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم دعا کرے کہ اللہ مذاکرات کو کامیاب بنائے، دعا کریں کہ دنیا میں امن قائم ہوجائے، کل دونوں ممالک اسلام آباد میں موجود ہوں گے، پاکستانی قیادت مذاکرات کامیاب کرانے کے لیے کوشش کرے گی۔

امریکا ایران جنگ: پیٹرول کی قیمت کتنی بار بڑھیں اور کم ہوئیں؟

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور بعد ازاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

دستیاب معلومات کے مطابق ایران اسرائیل امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 بار تبدیلیاں دیکھنے آئیں، جن میں 2 بار قیمتوں میں بڑا اضافہ اور ایک بار نمایاں کمی شامل ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔

اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

اس کے بعد دوسری بار 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی۔

بعد ازاں عوامی ردعمل اور عالمی قیمتوں میں جزوی کمی کے تناظر میں حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 378 روپے فی لیٹر پر آ گئی۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے اور ایران جنگ کے باعث سپلائی میں خلل نے قیمتوں کو مسلسل متاثر کیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث مستقبل میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔