اسرائیلی بیانات کی مذمت: امریکا سے جوہری معاملے پر بات نہیں ہو رہی، اسماعیل بقائی

کئی اہم نکات پر اتفاق ہوچکا، اسرائیلی بیانات توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں
شائع 25 مئ 2026 12:44pm

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کی موجودہ صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور دونوں فریق ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اس وقت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی وفد بھیجنے کا فی الحال پروگرام نہیں، تاہم پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔