جنگ بندی کے امکانات روشن ہونے پر امریکی اخبار کا نیتن یاہو پر سخت طنز

ایک وقت تھا جب نیتن یاہو ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوپائلٹ سمجھے جاتے تھے: نیویارک ٹائمز
شائع 24 مئ 2026 08:53am

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے امکانات روشن ہونے کے بعد امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں نیتن یاہو کا کردار اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایک وقت تھا جب نیتن یاہو ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوپائلٹ سمجھے جاتے تھے، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم اس جہاز کے محض ایک مسافر بن کر رہ گئے ہیں۔

امریکی اخبار نے طنزیہ انداز میں دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن یا جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور واشنگٹن نے معاہدے کی سفارتی کوششوں میں تل ابیب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

تجزیے میں کہا گیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا براہِ راست سفارتی پیش رفت کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ اسرائیل کی سخت گیر پالیسی اور نیتن یاہو کا مؤقف عالمی سفارتی کوششوں میں پہلے جیسا اثر و رسوخ برقرار نہیں رکھ سکا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ مذاکراتی عمل سے باہر کیے جانے کے بعد اسرائیلی رہنماؤں کو ایران سے متعلق بات چیت کی تفصیلات جاننے کے لیے ایرانی حکومت کی آزادانہ نگرانی، علاقائی رہنماؤں سے روابط اور مختلف سفارت کاروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنا پڑ رہی ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ 28 فروری کے حملوں سے چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیچویشن روم میں موجود تھے، جہاں دونوں رہنما مشترکہ حملے کے امکانات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

نیتن یاہو اس موقع پر یہ پیش گوئی بھی کر رہے تھے کہ مشترکہ کارروائی اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

تاہم چند ہی ہفتوں میں صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آگئی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران سے متعلق سفارتی اور عسکری معاملات میں اسرائیل کا کردار نمایاں حد تک محدود ہوگیا ہے۔