سعودی بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد حوثیوں کا شپنگ کمپنیوں کو بھی انتباہ

سعودی بندرگاہوں پر کارگو اتارنے اور چڑھانے والے جہاز بھی حملوں کی زد میں ہوں گے، ایف ایم ریڈیو پر انتباہ نشر
اپ ڈیٹ 21 جولائ 2026 07:09pm

یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔ ایف ایم ریڈیو پر نشر ہونے والے پیغام اور شپنگ کمپنیوں کو بھیجے گئے ای میل میں سعودی بندرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیش رفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں۔ ای میل میں کہا گیا کہ ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ 2023 میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی شدید متاثر ہوئی۔ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو خطے میں تیل کی ترسیل اور عالمی شپنگ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی۔

بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔