وزیراعظم آفس کے لیے نیا ’پی ایم او سسٹم‘ کس طرح کام کرے گا؟
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید وزیراعظم آفس سسٹم (پی ایم او ایس) کا افتتاح کر دیا، جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر بروقت عمل درآمد، نگرانی، فیصلہ سازی اور حکومتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید وزیراعظم آفس سسٹم (پی ایم او ایس) کا افتتاح کر دیا، جس کے ذریعے وزیراعظم کے احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر عمل درآمد، نگرانی اور تکمیل تک تمام مراحل کو خودکار انداز میں مانیٹر کیا جائے گا۔
وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نئے نظام پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی فائلوں کے ساتھ کام کرنے کا دور ختم ہونا چاہیے اور تمام وزارتیں جدید نظام کے تحت اپنے امور سرانجام دیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے حکومتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد ضروری ہے، جب کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام فیصلہ سازی کو تیز، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔
وزیراعظم نے اس منصوبے کی تیاری پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا۔
تقریب کے دوران وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو حکومتی فیصلوں میں شفافیت، بروقت اقدامات اور وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سابقہ نظام میں متعدد تکنیکی خامیاں موجود تھیں، جنہیں نئے پلیٹ فارم میں دور کیا گیا ہے تاکہ حکومتی فیصلوں کے نتائج سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کیا تھا اور اب حکومت ڈیجیٹل نظام سے مصنوعی ذہانت کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کاغذ سے پاک (پیپر لیس) طرز حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے اور وزیراعظم آفس سسٹم وزارتوں کی کارکردگی، جواب دہی اور خود احتسابی کے عمل کو مزید مضبوط بنائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم آفس سسٹم (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جو وزیراعظم کے احکامات کے اجرا، ان پر عمل درآمد، پیش رفت، تکمیل اور بعد ازاں نگرانی کے تمام مراحل کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ نظام وزارتوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی، احکامات کی مقررہ مدت پر عمل درآمد اور حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ میں مدد دے گا، جب کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت، تیز رفتار فیصلہ سازی اور بہتر گورننس کو فروغ ملے گا۔












