ازدواجی رشتے کی بربادی کا سبب بننے والی 8 بری عادتیں
ازدواجی رشتے کی مضبوطی چھوٹی چھوٹی عادات پرمنحصر ہوتی ہے، جو نظر انداز ہونے پر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں، اور یوں یہ معمولی رویے اکثر بڑے مسائل کی بنیاد بن جاتے ہیں، اور اکثر لوگ اس بات کا ادراک بھی نہیں کرپاتے کہ یہ عادتیں کس طرح محبت، اعتماد اور قربت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
معروف ریلیشن شِپ ایکسپرٹ جان گوٹ مین کے مطابق، یہ بری عادتیں تنقید، خاموشی اور رنجش سے شروع ہو کر رشتے کو تباہ کر سکتی ہیں۔ آج ہم ان آٹھ عام رویوں پر بات کریں گے۔
مسلسل تنقید
مسلسل شکایتیں شریک حیات کو کم تر محسوس کرواتی ہیں، جو خود اعتمادی ختم کر دیتی ہیں اور نفرت جنم دیتی ہیں۔ نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ ”منفی جذبات کا غلبہ“ پیدا کرتی ہے، جہاں اچھے کام بھی برے لگنے لگتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے مثبت باتوں کا تناسب ایک اور پانچ کا رکھیں یعنی ایک تنقید پر پانچ تعریف اپنے اوپر لازم کرلیں۔
بات چیت سے انکار
تعلقات میں بات چیت اتنی ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا۔ ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنا رنجش کو جمع کرتا ہے اور جذباتی فاصلہ بڑھاتا ہے۔کچھ لوگ مسائل کو نظر انداز کر کے فرض کر لیتے ہیں کہ وقت سب کچھ ٹھیک کر دے گا جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ عادت رنجش اور ناخوشی کو بڑھاتی ہے۔ کھلی، واضح اور ایماندارانہ گفتگو تعلقات کو مضبوط بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت مسائل حل کرتی ہے لہٰذا روزانہ 10 منٹ ایک دوسرے کو سننے کی عادت ڈالیں۔
ذاتی جگہ کی کمی
بعض اوقات ہروقت قریب رہنا ایک دوسرے کو اسپیس نہ دینا یہ بھی رشتوں میں خرابی یا چڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ ہر فرد کو اپنے شوق اور تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ قربت دباؤ اور چڑچڑاپن لاتی ہے۔ مطالعے سے ثابت ہے کہ ذاتی وقت رشتے کو تازہ رکھتا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ کم از کم ہفتے میں ایک دن اپنی مصروفیات یا سرگرمیاں الگ الگ کریں۔
رنجش دل میں رکھنا
رنجش زہر کی طرح کام کرتی ہے، جو اعتماد تباہ کر دیتی ہے اور تلخی بڑھاتی ہے۔ یہ جذباتی استحصال میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دل میں بات رکھنے کا مطلب لہجے اور انداز پر اس بات کا اثر انداز ہونا ہے جو آہستہ آہستہ دور کرتا چلا جاتا ہے۔ معاف کرنا اور ماضی کی تلخ بات کو بھول جانا، درگزر کرنا ہی تعلقات میں خوشی اور اعتماد برقرار رکھنے کا اہم طریقہ ہے۔
چھوٹی مہربانیاں نظر انداز کرنا
کوئی اچھا میسیج، مسکراہٹ یا چائے بناکر پیش کرنا اور پھر ان باتوں کی قدر کرنا دل میں محبت زندہ رکھتے ہیں۔ یہ چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا اور ایک دوسرے کو سراہنا مضبوط اور پیارے رشتے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ روزانہ ایک مہربانی یا کوئی معمولی سا ایسا کام جو دل میں قدر پیدا کرے ایک دوسرے کے لئے ضرور کریں اور اس کی عادت بنائیں۔
جذباتی ضروریات کو نظر انداز کرنا
تعلق صرف جسمانی موجودگی کا نام نہیں، بلکہ جذباتی سپورٹ کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ اگر ایک شریک حیات کی جذباتی ضروریات کو نظر انداز کیا جائے، تو تعلق میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جذباتی حمایت کا نہ ملنا انسان میں خالی پن پیدا کرتا ہے، جو بے وفائی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی ضروریات پوچھیں، محسوس کریں اور انہیں پورا کریں۔ اپنے آپ کو ہر چند دن بعد چیک کریں کہ آپکے خیالات آپ کا عمل پارٹنر کا ساتھ دے رہا ہے یا نہیں۔
سوال کرنے کے بجائے مفروضے لگانا
اکثر ازدواجی تنازعات کی جڑ غیر واضح توقعات اور قیاس آرائیاں ہوتی ہیں۔ بہت سے افراد اپنی بات یا احساسات کھل کر بیان کرنے کے بجائے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سامنے والے کو خود ہی سب کچھ سمجھ جانا چاہیے، یا وہ کسی ممکنہ اختلاف سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
حقیقت میں کسی بھی انسان کے ذہن یا دل کی کیفیت کو مکمل طور پر جان لینا ممکن نہیں ہوتا، چاہے رشتہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ ان ہی غلط اندازوں سے غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر بات صاف، سادہ اور دیانتداری سے کی جائے تو نہ صرف مسائل کم ہوتے ہیں بلکہ باہمی اعتماد اور تعلق کی مضبوطی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ واضح بات کی عادت ڈالیں۔
تنازع سے بچنا
اختلافات کسی بھی رشتے کا فطری حصہ ہوتے ہیں، مگر اکثر لوگ تکلیف یا کشیدگی کے خوف سے ان کا سامنا کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ رویہ وقتی سکون دے دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی دبی ہوئی باتیں بعد میں بڑے فاصلے پیدا کر دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے مناسب وقت پر بات کر کے حل تلاش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ صحت مند انداز میں اختلاف کو سمجھنا نہ صرف غلط توقعات کو دور کرتا ہے بلکہ تعلق کو زیادہ حقیقت پسند اور مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔
















