فلسطینی ہدایت کار کے الزامات: جرمن وزیر فلم فیسٹیول سے واک آؤٹ کرگئے
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں منعقد ہونے والے عالمی فلمی میلے برلنالے میں غزہ کی صورتحال پر دیے گئے بیان کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔ فلسطینی نژاد شامی ہدایت کار عبداللہ الخطیب کی تقریر کے دوران جرمن وزیر ماحولیات کارسٹن شنائیڈر تقریب سے اٹھ کر چلے گئے۔
عبداللہ الخطیب کی فلم ’کرونیکلز فرام دی سیج‘ نے برلنالے کے ’پرسپیکٹیوز‘ سیکشن میں ایوارڈ حاصل کیا، جو نئے اور ابھرتے ہوئے فلم سازوں کے لیے مخصوص ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انہوں نے جرمن حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کی جانے والی کارروائیوں میں شراکت دار ہے اور ان کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا۔
اپنی تقریر میں الخطیب نے کہا کہ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ جرمنی میں بطور پناہ گزین رہتے ہوئے محتاط انداز اختیار کریں کیونکہ کچھ معاملات حساس ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنے لوگوں اور فلسطین کے لیے آواز اٹھانا ضروری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اسٹیج پر فلسطینی پرچم بھی لہرایا اور جرمن حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
تقریب میں موجود جرمن وزیر ماحولیات کارسٹن شنائیڈر ان ریمارکس کے بعد ہال سے باہر چلے گئے۔ ان کے ترجمان نے بعد میں بیان جاری کیا کہ وزیر نے ان بیانات کو ناقابل قبول سمجھا اور اسی وجہ سے وہ تقریب سے روانہ ہوئے۔
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف آراء موجود ہیں۔ بعض انسانی حقوق کے ماہرین، محققین اور اقوام متحدہ کی ایک انکوائری کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اس کی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت کی جا رہی ہیں۔
جرمنی میں اسرائیل سے متعلق گفتگو کو تاریخی تناظر میں حساس سمجھا جاتا ہے۔ نازی دور کے ہولوکاسٹ کے پس منظر میں جرمن حکومت اسرائیل کی حمایت کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے، جسے ’اسٹاتس ریزوں‘ کہا جاتا ہے۔
اس واقعے پر جرمنی میں اسرائیل کے سفیر رون پروسور نے جرمن وزیر کے اقدام کو سراہا اور ایک جرمن اخبار سے گفتگو میں اسے واضح اور اصولی ردعمل قرار دیا۔
برلن فلم فیسٹیول، جسے عام طور پر برلنالے کہا جاتا ہے، کو وینس اور کانز جیسے دیگر بڑے فلمی میلوں کے مقابلے میں زیادہ سیاسی سمجھا جاتا ہے۔ اس سال کے میلے میں بھی غزہ جنگ پر بارہا گفتگو ہوئی اور کچھ اداکاروں اور ہدایت کاروں نے منتظمین پر تنقید کی کہ انہوں نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
جیوری کے صدر جرمن ہدایت کار وِم وینڈرز نے اپنی آخری تقریب میں فلم سازوں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کے حریف بننے کے بجائے اتحادی بنیں۔ اس سے قبل ان کے ایک بیان پر بھارتی ناول نگار اروندھتی رائے نے میلے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
دیگر انعام یافتہ فلم سازوں نے بھی اپنی تقاریر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ترک ہدایت کار ایمن الپر نے کہا کہ کم از کم انہیں خاموشی توڑنی چاہیے تاکہ متاثرہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
یوں اس سال کا برلنالے فلمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بیانات اور اختلافی آراء کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنا رہا۔














