سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا سیکیورٹی واپس لینے کا الزام، سہیل آفریدی کی تردید
پاکستان تحریک انصاف کے اندر سیکیورٹی سہولتوں کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سیکیورٹی بلا جواز واپس لی گئی، جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
علی امین گنڈاپور نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے، اس کے باوجود ان کی سیکیورٹی واپس لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی واپسی بلا جواز ہے اور اگر دوبارہ سیکیورٹی فراہم بھی کی گئی تو وہ قبول نہیں کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس سے دو گاڑیاں اور ایک جیمر ساتھ لے گئے تھے اور مستعفی ہونے کے بعد بھی یہ سہولتیں استعمال کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نقل و حرکت کے لیے اس وقت صرف ایک جیمر دستیاب تھا، جبکہ اضافی ضرورت کے پیش نظر دوسرا جیمر اور گاڑیاں واپس لی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزرائے اعلیٰ کو محکمہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کی گاڑیاں اور جیمر استعمال کرنے کا اختیار انہیں حاصل نہیں ہوتا۔ اسی ضابطے کے تحت متعلقہ سامان واپس لیا گیا۔
اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس نہیں لی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنے فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتے رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی غیر اہم معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے خبروں میں رہنا چاہتا ہے تو اس پر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ معاملے پر دونوں جانب سے بیانات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔













